Saturday, 25 July 2026

تیری دھن میں کدھر آ گئے کیا کریں

 کیسے حالات میں آ گئے، کیا کریں

ناتواں غم، تناور ہوئے، کیا کریں

یہ ہوا جانفزائی کا پیغام تھی

کیا کریں،ب جھ رہے ہیں دیے، کیا کریں

بے خبر تھے تو ہر کام آسان تھا

اب خبر کا تحیّر بہے، کیا کریں

بے سبب راستے میں جنوں آ گیا

بے سبب تجھ سے ہم لڑ پڑے، کیا کریں

موجِ دل! اب سنبھل، ہوش کر، ٹھہر جا

تیری دُھن میں کدھر آ گئے، کیا کریں

خُود پہ دُشنام کی تسبیاں بھیج کر

ہم تجھے کوستے ہی رہے، کیا کریں

دل کے کاسے میں خیرِ ابد ڈال دے

کیا کریں ہم سے کچھ نہ بنے، کیا کریں

 

ڈاکٹر ناہید شاہد

No comments:

Post a Comment