پھول توڑو نہ یوں تتلی کو پریشان کرو
کِھلتا رہنے دو چمن، اس کو نہ وِیران کرو
تم سے مایوس بہت دل ہے کبھی ایسا کرو
سامنے آؤ اچانک، مجھے حیران کرو
ظُلم کرنا جو بُرا ہے تو ہے سہنا بھی غلط
تم کو بھی حق ہے کہ ظالم کو پشیمان کرو
دُھوپ چھاؤں سا رویہ نہیں بھاتا مجھ کو
گر خفا ہو تو خفا ہونے کا اعلان کرو
کوئی وعدہ نہ کوئی آس ہے مطلوب ہمیں
زندہ رہنے دو فقط اتنا سا احسان کرو
فرزانہ ساجد
No comments:
Post a Comment