Friday, 24 July 2026

پھول توڑو نہ یوں تتلی کو پریشان کرو

 پھول توڑو نہ یوں تتلی کو پریشان کرو

کِھلتا رہنے دو چمن، اس کو نہ وِیران کرو

تم سے مایوس بہت دل ہے کبھی ایسا کرو

سامنے آؤ اچانک، مجھے حیران کرو

ظُلم کرنا جو بُرا ہے تو ہے سہنا بھی غلط 

تم کو بھی حق ہے کہ ظالم کو پشیمان کرو

دُھوپ چھاؤں سا رویہ نہیں بھاتا مجھ کو

گر خفا ہو تو خفا ہونے کا اعلان کرو

کوئی وعدہ نہ کوئی آس ہے مطلوب ہمیں 

زندہ رہنے دو فقط اتنا سا احسان کرو


فرزانہ ساجد

No comments:

Post a Comment