زندگی پر غموں کا سایا ہے
کل جو اپنا تھا اب پرایا ہے
چھوڑ کر رسم و راہ دنیا کی
کون کب کس کے کام آیا ہے
کیوں ہوئیں نم یہ آپ کی آنکھیں
زخمِ دل ہم نے کب دِکھایا ہے
موت کا کیوں نہ انتظار کروں
زندگی نے بہت ستایا ہے
تیرا مِلنا تھا اتفاق مگر
زخمِ دل نے بہت رُلایا ہے
نگار بانو ناز
No comments:
Post a Comment