Sunday, 19 July 2026

زندگی پر غموں کا سایا ہے

 زندگی پر غموں کا سایا ہے

کل جو اپنا تھا اب پرایا ہے

چھوڑ کر رسم و راہ دنیا کی

کون کب کس کے کام آیا ہے

کیوں ہوئیں نم یہ آپ کی آنکھیں

زخمِ دل ہم نے کب دِکھایا ہے

موت کا کیوں نہ انتظار کروں

زندگی نے بہت ستایا ہے

تیرا مِلنا تھا اتفاق مگر

زخمِ دل نے بہت رُلایا ہے


نگار بانو ناز

No comments:

Post a Comment