Thursday, 16 July 2026

سرکار کہیں کھوئے ہوئے ہوش ملے ہیں

 ہر چند کہ ہر حال میں بیہوش مِلے ہیں

دیوانے مگر غم سے سبکدوش ملے ہیں

آنے کو ہم آ جائیں ابھی ہوش میں، لیکن

سرکار کہیں کھوئے ہوئے ہوش ملے ہیں

کیوں کر کبھی کرتے گِلۂ غم بھی کسی سے

ہم کو تو شبِ غم لبِ خاموش ملے ہیں

خلوت میں بھی مِلنے سے حیا آتی تھی جن کو

خوابوں میں وہی زینتِ آغوش ملے ہیں

کچھ راز تو ہے اس میں ضرور، آپ جو اخگر

اکثر شبِ مہ تاب میں خاموش ملے ہیں


اخگر مشتاق رحیم آبادی

No comments:

Post a Comment