Showing posts with label نجیبہ عارف. Show all posts
Showing posts with label نجیبہ عارف. Show all posts

Thursday, 9 November 2023

آ گئی کیا دل میں پھر سے یاد یار ذی سلم (اردو ترجمہ قصیدہ بردہ)

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

مَولَایَ صَلِ وَسلِّم دَائماً اَبَداً

علیٰ حَبِیبِکَ خَیرِ خَلقِ کُلِّھمِ (بوصیری)


آ گئی کیا دل میں پھر سے یادِ یارِ ذی سلَم

خون ہو کر بہ رہا ہے دل مسلسل، دم بہ دم

کاظمہ سے کیا کوئی پیغام لائی ہے صبا؟ 

برق ساں جلوہ نما ہیں یا وہؐ بر کوہِ اِضَم؟ 

اس قدر گریہ کُناں  آنکھیں سنبھلتی ہی نہیں 

Tuesday, 11 October 2022

وقت سے پیچھے رہ جائیں گے

 ناگزیریت 


پھٹے پرانے جسم

کی بکل مار کے

کب تک

جیون دھوپ کی گرمی

ڈھلتی عمر کا پالا

Wednesday, 5 October 2022

ہم تیرے پس ماندگان ہیں تیرا پرسہ لینے کو بیٹھے ہیں

 ہم تیرے پس ماندگان ہیں


آصف فرخی

ہم تجھے روتے ہیں

تیری میت سے دور دور بیٹھے

تجھے روتے اور بین کرتے ہیں

ہم اپنے قلم توڑتے

Sunday, 7 November 2021

نگاہ و رخ پر ہے لکھی جاتی جو بات لب پر رکی ہوئی ہے

نگاہ و رخ پر ہے لکھی جاتی جو بات لب پر رکی ہوئی ہے 

مہک چھپے بھی تو کیسے دل میں کلی جو غم کی کھلی ہوئی ہے 

جو دل سے لپٹا ہے سانپ بن کر ڈرا رہا ہے بچا رہا ہے 

یہ ساری رونق اس اک تصور کے دم سے ہی تو لگی ہوئی ہے 

خیال اپنا،۔ کمال اپنا،۔ عروج اپنا،۔ زوال اپنا 

یہ کن بُھلیّوں میں ڈال رکھا ہے کیسی لِیلا رچی ہوئی ہے 

Saturday, 10 July 2021

میں لکھنا چاہتی ہوں ایک ایسی نظم

ایک بے معنی نظم


میں لکھنا چاہتی ہوں

ایک ایسی نظم

جس کے کوئی بھی معنی نہ ہوں

سُلگی ہوئی آنکھوں کی پُتلی کے عقب میں

ایک جامد خواب کے دل کی ہتھیلی پر

Saturday, 29 May 2021

مجھے معلوم ہے کہ میری نظمیں

 گھاس کے پھول


مجھے معلوم ہے کہ میری نظمیں

ادب کی دنیا میں انقلاب

برپا نہیں کر سکتیں

گمراہوں کو ہدایت نہیں دے سکتیں

تاریخ کا رُخ نہیں موڑ سکتیں