Wednesday, 5 October 2022

ہم تیرے پس ماندگان ہیں تیرا پرسہ لینے کو بیٹھے ہیں

 ہم تیرے پس ماندگان ہیں


آصف فرخی

ہم تجھے روتے ہیں

تیری میت سے دور دور بیٹھے

تجھے روتے اور بین کرتے ہیں

ہم اپنے قلم توڑتے

اور قرطاس پر خون بھری انگلیوں سے تیرا نوحہ لکھتے ہیں

ہم دنیازاد کے شماروں کی دیوار سے سر ٹکراتے 

اور کتابوں کے ڈھیر کو سینے سے لگائے تجھے روتے ہیں

تیرے وڈیو کالمز کے کلپ ہمارے کانوں میں کٹار بن کر اترتے ہیں 

اور تیری موت کا انکار کرتے ہیں

فیس بک پر تیری تصویریں ہمیں دیکھ کر مسکراتی ہیں

ہم چیخ چیخ کر کہتے ہیں

نہیں نہیں، یہ جھوٹ ہے

آصف فرخی! جان لو

کہ ہم تیرے پس ماندگان ہیں

تیرا پرسہ لینے کو بیٹھے ہیں


نجیبہ عارف

No comments:

Post a Comment