ہم تیرے پس ماندگان ہیں
آصف فرخی
ہم تجھے روتے ہیں
تیری میت سے دور دور بیٹھے
تجھے روتے اور بین کرتے ہیں
ہم اپنے قلم توڑتے
اور قرطاس پر خون بھری انگلیوں سے تیرا نوحہ لکھتے ہیں
ہم دنیازاد کے شماروں کی دیوار سے سر ٹکراتے
اور کتابوں کے ڈھیر کو سینے سے لگائے تجھے روتے ہیں
تیرے وڈیو کالمز کے کلپ ہمارے کانوں میں کٹار بن کر اترتے ہیں
اور تیری موت کا انکار کرتے ہیں
فیس بک پر تیری تصویریں ہمیں دیکھ کر مسکراتی ہیں
ہم چیخ چیخ کر کہتے ہیں
نہیں نہیں، یہ جھوٹ ہے
آصف فرخی! جان لو
کہ ہم تیرے پس ماندگان ہیں
تیرا پرسہ لینے کو بیٹھے ہیں
نجیبہ عارف
No comments:
Post a Comment