Showing posts with label اسماعیل راز. Show all posts
Showing posts with label اسماعیل راز. Show all posts

Friday, 24 February 2023

اک حسن باریاب سے آگے نہیں بڑھے

 اک حسنِ باریاب سے آگے نہیں بڑھے

یعنی ہم ایک خواب سے آگے نہیں بڑھے

اک شہرِ بے مراد میں کاٹی تمام عمر

اک خانۂ خراب سے آگے نہیں بڑھے

تجھ کو پلٹ کے دیکھنے کے دکھ سے بچنا تھا

ہم لوگ اس حساب سے آگے نہیں بڑھے

Wednesday, 22 February 2023

روبرو تیرے بہت دیر بٹھایا گیا میں

 روبرو تیرے بہت دیر بٹھایا گیا میں

وجد میں آیا نہیں وجد میں لایا گیا میں

سلسلہ ختم نہ ہو گا یہ دل آزاری کا

اس سے پہلے بھی کئی بار منایا گیا میں

یوں لگا سب نے گواہی دی کہ تو میرا ہے

جب تِرے نام سے بستی میں ستایا گیا میں

Monday, 20 February 2023

دوست بہت رہے مگر یار نہیں بنا کوئی

 دوست بہت رہے مگر یار نہیں بنا کوئی

یعنی، میں چل پڑا تو دیوار نہیں بنا کوئی

اک تو یہ دکھ کہ کوئی حقدار ہی بن گیا تِرا

اس پہ ستم یہ ہے کہ حقدار نہیں بنا کوئی

پھول بکا رہے ہیں ترشول بکانے والے بھی

جب سے وہ شہر آیا، ہتھیار نہیں بنا کوئی

Wednesday, 3 March 2021

پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے

پڑی ہے رات، کوئی غم شناس بھی نہیں ہے

شراب خانے میں آدھا گلاس بھی نہیں ہے

میں دل کو لے کے کہاں نکلوں اتنی رات گئے

مکان اس کا کہیں آس پاس بھی نہیں ہے

کسی بھی بات کو لے کر الجھتے رہتے ہیں

‏یہ ملنا جلنا ہم ایسوں کو راس بھی نہیں ہے

Friday, 4 December 2020

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا

 تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا

رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا

مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں میں نے شہر کو

یعنی میں ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا

اس کو نظر اٹھا کے ذرا دیکھنے تو دے

پھر کہنا میرا جادو اگر چل نہیں گیا