اک حسنِ باریاب سے آگے نہیں بڑھے
یعنی ہم ایک خواب سے آگے نہیں بڑھے
اک شہرِ بے مراد میں کاٹی تمام عمر
اک خانۂ خراب سے آگے نہیں بڑھے
تجھ کو پلٹ کے دیکھنے کے دکھ سے بچنا تھا
ہم لوگ اس حساب سے آگے نہیں بڑھے
اک حسنِ باریاب سے آگے نہیں بڑھے
یعنی ہم ایک خواب سے آگے نہیں بڑھے
اک شہرِ بے مراد میں کاٹی تمام عمر
اک خانۂ خراب سے آگے نہیں بڑھے
تجھ کو پلٹ کے دیکھنے کے دکھ سے بچنا تھا
ہم لوگ اس حساب سے آگے نہیں بڑھے
روبرو تیرے بہت دیر بٹھایا گیا میں
وجد میں آیا نہیں وجد میں لایا گیا میں
سلسلہ ختم نہ ہو گا یہ دل آزاری کا
اس سے پہلے بھی کئی بار منایا گیا میں
یوں لگا سب نے گواہی دی کہ تو میرا ہے
جب تِرے نام سے بستی میں ستایا گیا میں
دوست بہت رہے مگر یار نہیں بنا کوئی
یعنی، میں چل پڑا تو دیوار نہیں بنا کوئی
اک تو یہ دکھ کہ کوئی حقدار ہی بن گیا تِرا
اس پہ ستم یہ ہے کہ حقدار نہیں بنا کوئی
پھول بکا رہے ہیں ترشول بکانے والے بھی
جب سے وہ شہر آیا، ہتھیار نہیں بنا کوئی
پڑی ہے رات، کوئی غم شناس بھی نہیں ہے
شراب خانے میں آدھا گلاس بھی نہیں ہے
میں دل کو لے کے کہاں نکلوں اتنی رات گئے
مکان اس کا کہیں آس پاس بھی نہیں ہے
کسی بھی بات کو لے کر الجھتے رہتے ہیں
یہ ملنا جلنا ہم ایسوں کو راس بھی نہیں ہے
تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا
رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا
مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں میں نے شہر کو
یعنی میں ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا
اس کو نظر اٹھا کے ذرا دیکھنے تو دے
پھر کہنا میرا جادو اگر چل نہیں گیا