Friday, 4 December 2020

تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا

 تیری گلی کو چھوڑ کے پاگل نہیں گیا

رسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیا

مجنوں کی طرح چھوڑا نہیں میں نے شہر کو

یعنی میں ہجر کاٹنے جنگل نہیں گیا

اس کو نظر اٹھا کے ذرا دیکھنے تو دے

پھر کہنا میرا جادو اگر چل نہیں گیا

ہائے وہ آنکھیں ٹاٹ کو تکتے ہی بجھ گئیں

ہائے وہ دل کہ جانبِ مخمل نہیں گیا

تیرے مکاں کے بعد قدم ہی نہیں اٹھے

تیرے مکاں سے آگے میں پیدل نہیں گیا


اسماعیل راز

No comments:

Post a Comment