Friday, 4 December 2020

پھر یوں ہوا کہ آگ سے چہرہ جلا دیا

 پھر یوں ہوا کہ آگ سے چہرہ جلا دیا

کس نے عظیم شہر کا نقشہ جلا دیا

کل پنچھیوں نے قید میں اک فیصلے کے بعد

بدلے کی سرد آگ سے پنجرہ جلا دیا

تاوان جو نہیں ملا شہ رگ کو کاٹ کر

بچے کی لاش پھینک دی بستہ جلا دیا

آندھی کی پھر چراغ سے تکرار ہو گئی

جگنو نے کیوں ہوا کا دوپٹہ جلا دیا

یہ گر رہی ہے راکھ جو راہب زمین پر

بڑھیا نے رات چاند میں چرخہ جلا دیا


عمران راہب

No comments:

Post a Comment