میں تو کھڑا ہوں اپنی ہی تنہائیوں کے بیچ
میرا شمار کیا ہو تماشائیوں کے بیچ
اک عکس سا چھپا ہے سرِ شہرِ بے مہر
سایوں کے بیچ بیچ اور پرچھائیوں کے بیچ
زندہ دلانِ فہم و فراست کہاں گئے؟
عقل و شعور و فکر کی دانائیوں کے بیچ
ہنگامِ بزمِ یار! تجھے کچھ خبر نہیں
نالے سنائی دیتے ہیں شہنائیوں کے بیچ
عہدِ وفا کیا، اب تو ملاقات سے گئے
پڑ ہی گئی دراڑ شناسائیوں کے بیچ
کاظم واسطی
No comments:
Post a Comment