Friday, 4 December 2020

میں تو کھڑا ہوں اپنی ہی تنہائیوں کے بیچ

 میں تو کھڑا ہوں اپنی ہی تنہائیوں کے بیچ

میرا شمار کیا ہو تماشائیوں کے بیچ

اک عکس سا چھپا ہے سرِ شہرِ بے مہر

سایوں کے بیچ بیچ اور پرچھائیوں کے بیچ

زندہ دلانِ فہم و فراست کہاں گئے؟

عقل و شعور و فکر کی دانائیوں کے بیچ

ہنگامِ بزمِ یار! تجھے کچھ خبر نہیں

نالے سنائی دیتے ہیں شہنائیوں کے بیچ

عہدِ وفا کیا، اب تو ملاقات سے گئے

پڑ ہی گئی دراڑ شناسائیوں کے بیچ


کاظم واسطی

No comments:

Post a Comment