Friday, 4 December 2020

جگاؤ نہیں اب

 جگاؤ نہیں اب


سبھی بکھرے خوابوں کو دھوکا دئیے

اب پری سو رہی ہے

تماشہ لگائے یہ خوابوں کا جھرمٹ کھڑا ہے

وہ دربان دیکھو

جھروکے سے آنے کو بے تاب ہے

اور شکایت لگانے کو الفاظ کی حاضری ہے


اسے کوس کر کیا ملے گا، بتاؤ؟

عدالت میں جاؤ، رہائی دلاؤ

کسی ٹمٹماتے ستارے سے لو مانگ لاؤ

کسی شام ہی سے دعا لیتے آؤ

اسے مت ستاؤ

بڑی مشکلوں سے خلاصی ملی ہے

اداسی کے ہاتھوں میں آ تو گئی تھی

مگر کھینچ لائی ہے میّت کو اپنی

کہاں بین خوابوں کے وہ سن سکے گی

اسے مت جگاؤ

مجھے یہ بتاؤ

وہ جب سالہا سال خوابوں کو روتی رہی

تم کہاں تھے؟


ردا فاطمہ

No comments:

Post a Comment