جگاؤ نہیں اب
سبھی بکھرے خوابوں کو دھوکا دئیے
اب پری سو رہی ہے
تماشہ لگائے یہ خوابوں کا جھرمٹ کھڑا ہے
وہ دربان دیکھو
جھروکے سے آنے کو بے تاب ہے
اور شکایت لگانے کو الفاظ کی حاضری ہے
اسے کوس کر کیا ملے گا، بتاؤ؟
عدالت میں جاؤ، رہائی دلاؤ
کسی ٹمٹماتے ستارے سے لو مانگ لاؤ
کسی شام ہی سے دعا لیتے آؤ
اسے مت ستاؤ
بڑی مشکلوں سے خلاصی ملی ہے
اداسی کے ہاتھوں میں آ تو گئی تھی
مگر کھینچ لائی ہے میّت کو اپنی
کہاں بین خوابوں کے وہ سن سکے گی
اسے مت جگاؤ
مجھے یہ بتاؤ
وہ جب سالہا سال خوابوں کو روتی رہی
تم کہاں تھے؟
ردا فاطمہ
No comments:
Post a Comment