Showing posts with label ابر احسنی. Show all posts
Showing posts with label ابر احسنی. Show all posts

Sunday, 12 November 2023

فریاد ہے کہ میری نظر سے نہاں رہے

 فریاد ہے کہ میری نظر سے نہاں رہے

اور جلوہ ریز آپ مکاں در مکاں رہے

گھر بے نشاں قفس سے رہائی چمن میں برق

اس بے بسی کے دور میں کوئی کہاں رہے

رُوداد اپنے عشق کی گُونگے کا خواب تھا

تا زیست اپنے راز کے خود رازداں رہے

Monday, 26 June 2023

وہیں سے حد ملی ہے جا پہنچتا کوئے جاناں تک

 وہیں سے حد ملی ہے جا پہنچتا کوئے جاناں تک

رسائی سالکو! جب عقل کر لے حدِ امکاں تک

جنوں میں دستِ لاغر کا ہے قبضہ اس بیاباں تک

جہاں سو منزلیں پڑتی ہیں دامن سے گریباں تک

مِرے دستِ جنوں کا زور اور پھر زور بھی کیسا

کہ ہمراہ گریباں کھینچے لاتا ہے رگِ جاں تک

Tuesday, 20 June 2023

بیکسی کا حال میت سے عیاں ہو جائے گا

 بیکسی کا حال میت سے عیاں ہو جائے گا

بے زباں ہونا مِرا گویا زباں ہو جائے گا

شوق سے دل کو مٹا دو، لیکن اتنا سوچ لو

اس کے ہر ذرے سے پیدا اک جہاں ہو جائے گا

دل کے بہلانے کو آؤ آج نالے ہی کریں

آسماں کے ظرف کا بھی امتحاں ہو جائے گا

Tuesday, 13 June 2023

حیراں نہیں ہیں ہم کہ پریشاں نہیں ہیں ہم

 حیراں نہیں ہیں ہم کہ پریشاں نہیں ہیں ہم

اس پر بھی شاکیٔ غمِ دوراں نہیں ہیں ہم

شکوہ زباں پہ لائیں وہ انساں نہیں ہیں ہم

تیرے ستم بخیر، پریشاں نہیں ہیں ہم

خاک اپنی خاک کوچۂ جاناں میں جا ملی

احسان مند گورِ غریباں نہیں ہیں ہم

Sunday, 11 June 2023

سو ظلمتیں ہے عشق پریشاں لئے ہوئے

 سو ظلمتیں ہے عشق پریشاں لیے ہوئے

آ جاؤ مشعل رخ تاباں لیے ہوئے

ہر موج بے خراش تھی دریائے حسن کی

آنا پڑا تلاطم ارماں لیے ہوئے

دست جنوں کو چھیڑ نہ غیرت دہ بہار

دامن سے جا ملے نہ گریباں لیے ہوئے