فریاد ہے کہ میری نظر سے نہاں رہے
اور جلوہ ریز آپ مکاں در مکاں رہے
گھر بے نشاں قفس سے رہائی چمن میں برق
اس بے بسی کے دور میں کوئی کہاں رہے
رُوداد اپنے عشق کی گُونگے کا خواب تھا
تا زیست اپنے راز کے خود رازداں رہے
فریاد ہے کہ میری نظر سے نہاں رہے
اور جلوہ ریز آپ مکاں در مکاں رہے
گھر بے نشاں قفس سے رہائی چمن میں برق
اس بے بسی کے دور میں کوئی کہاں رہے
رُوداد اپنے عشق کی گُونگے کا خواب تھا
تا زیست اپنے راز کے خود رازداں رہے
وہیں سے حد ملی ہے جا پہنچتا کوئے جاناں تک
رسائی سالکو! جب عقل کر لے حدِ امکاں تک
جنوں میں دستِ لاغر کا ہے قبضہ اس بیاباں تک
جہاں سو منزلیں پڑتی ہیں دامن سے گریباں تک
مِرے دستِ جنوں کا زور اور پھر زور بھی کیسا
کہ ہمراہ گریباں کھینچے لاتا ہے رگِ جاں تک
بیکسی کا حال میت سے عیاں ہو جائے گا
بے زباں ہونا مِرا گویا زباں ہو جائے گا
شوق سے دل کو مٹا دو، لیکن اتنا سوچ لو
اس کے ہر ذرے سے پیدا اک جہاں ہو جائے گا
دل کے بہلانے کو آؤ آج نالے ہی کریں
آسماں کے ظرف کا بھی امتحاں ہو جائے گا
حیراں نہیں ہیں ہم کہ پریشاں نہیں ہیں ہم
اس پر بھی شاکیٔ غمِ دوراں نہیں ہیں ہم
شکوہ زباں پہ لائیں وہ انساں نہیں ہیں ہم
تیرے ستم بخیر، پریشاں نہیں ہیں ہم
خاک اپنی خاک کوچۂ جاناں میں جا ملی
احسان مند گورِ غریباں نہیں ہیں ہم
سو ظلمتیں ہے عشق پریشاں لیے ہوئے
آ جاؤ مشعل رخ تاباں لیے ہوئے
ہر موج بے خراش تھی دریائے حسن کی
آنا پڑا تلاطم ارماں لیے ہوئے
دست جنوں کو چھیڑ نہ غیرت دہ بہار
دامن سے جا ملے نہ گریباں لیے ہوئے