سو ظلمتیں ہے عشق پریشاں لیے ہوئے
آ جاؤ مشعل رخ تاباں لیے ہوئے
ہر موج بے خراش تھی دریائے حسن کی
آنا پڑا تلاطم ارماں لیے ہوئے
دست جنوں کو چھیڑ نہ غیرت دہ بہار
دامن سے جا ملے نہ گریباں لیے ہوئے
بڑھ جائے اور عرصۂ محشر ضرورتاً
آیا ہوں ساتھ کثرت عصیاں لیے ہوئے
اک سرمدی حیات گلے مل کے دی گئی
تھی تیغ ناز چشمۂ حیواں لیے ہوئے
دیتے رہے وہ حسن کو درس جمال طور
بیٹھا رہا میں دیدۂ حیراں لیے ہوئے
آتا ہے کون حشر میں یہ جھومتا ہوا
سجدوں کے ساتھ کوچۂ جاناں لیے ہوئے
تو اپنے تیر ناز کا مجھ سے نہ ذکر کر
دل اڑ نہ جائے عالم امکاں لیے ہوئے
چھایا ہے ابر مہر قیامت پہ بن کے ابر
وہ اشک تھا جو دیدۂ گریاں لیے ہوئے
ابر احسنی گنوری
احمد بخش
No comments:
Post a Comment