Sunday, 11 June 2023

ضبط یہ درد کی جاگیر نہیں ہو سکتی

 ضبط یہ درد کی جاگیر نہیں ہو سکتی

کارگر اب کوئی تدبیر نہیں ہو سکتی

جب مِرا جہدِ مسلسل پہ یـقیں پختہ ہـے

نامرادی مِری تقدیر نہیں ہو سکتی

نیک ہو یا کہ بُرا ہے یہی فطرت کا اصول

کسی انجام میں تاخیر نہیں ہو سکتی

رکھ کھلی آنکھ سے اے دوست عمل کی بنیاد

خواب میں شوق کی تعمیر نہیں ہو سکتی

ہو بہو نرگسِ شہلا ہے تِری آنکھوں کی

اس سے بہتر کوئی تفسیر نہیں ہو سکتی

یہ وہی نقشِ وفا ہے یہ وہی چہرہ ہے

یہ کسی اور کی تصویر نہیں ہو سکتی

کبھی پُر عزم رہِ حق کـے مسافر کے لیے

مصلحت پاؤں کی زنجیر نہیں ہو سکتی

معاف کرنا جو لیے پھرتـے ہیں دو دو چہرے

مجھ سے ان لوگوں کی توقیر نہیں ہو سکتی

دل دُکھایا نہ کبھی تُو نے کسی کا حسنی

کم از کم یہ تِری تقصیر نہیں ہو سکتی


غلام حسن حسنی

No comments:

Post a Comment