سازِ حیات، قید و سلاسل کہیں کسے
جب دل ہی بجھ گیا ہو تو پھر دل کہیں کسے
رُودادِ غم طویل تو اتنی نہیں، مگر
کوئی کہاں ہے مدِ مقابل، کہیں کسے
بچتے بچاتے موجِ حوادث سے آ کے ہم
ساحل پہ ڈوب جائیں تو ساحل کہیں کسے
سازِ حیات، قید و سلاسل کہیں کسے
جب دل ہی بجھ گیا ہو تو پھر دل کہیں کسے
رُودادِ غم طویل تو اتنی نہیں، مگر
کوئی کہاں ہے مدِ مقابل، کہیں کسے
بچتے بچاتے موجِ حوادث سے آ کے ہم
ساحل پہ ڈوب جائیں تو ساحل کہیں کسے
لپٹ رہی ہیں جو تجھ سے دعائیں میری ہیں
ہوا کا شور نہیں ہے صدائیں میری ہیں
کسی بھی راہ سے تم آ سکو تو آ جانا
کہ شہر میرا ہے ساری دشائیں میری ہیں
اڑا رہے ہو یہاں جن کی دھجیاں تم بھی
یہ جان لو کہ وہ ساری ردائیں میری ہیں
درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئے
شعر لکھوں تو یہ تاثیر غزل میں آئے
سنتے آئے ہیں بہت ذکر حسیں خوابوں کا
اب کسی خواب کی تعبیر غزل میں آئے
ان کے چہرے کو میں اس طرح پڑھا کرتا ہوں
جیسے غم کی کوئی تفسیر غزل میں آئے
چھپا ہے کرب مسلسل ہوا کے لہجے میں
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
میں اس کی قدر کروں گا جو میرے عیبوں کو
مِرے ہی منہ پہ کہے آشنا کے لہجے میں
زمانہ آج بھی قاصر ہے یہ سمجھنے سے
سفر کی بات ہوئی کیوں ہوا کے لہجے میں
بے نیاز بہار سا کیوں ہے
دل کو زخموں سے پیار سا کیوں ہے
وہ خفا ہیں کہ ہم غریبوں کو
غم پہ کچھ اختیار سا کیوں ہے
میری آنکھوں کے خواب تو غم ہیں
وہ مگر بے قرار سا کیوں ہے
ہجومِ درد ملا امتحان ایسا تھا
مگر وہ چپ ہی رہا بے زبان ایسا تھا
کسی کی عزت و ناموس پر نہ آنچ آئی
لُٹا تو اُف بھی نہ کی مہربان ایسا تھا
زمانہ گزرا، مگر داغ رہ گیا دل پر
نہ مٹ سکا کسی صورت نشان ایسا تھا