Showing posts with label غیاث انجم. Show all posts
Showing posts with label غیاث انجم. Show all posts

Wednesday, 28 December 2022

ساز حیات قید و سلاسل کہیں کسے

 سازِ حیات، قید و سلاسل کہیں کسے

جب دل ہی بجھ گیا ہو تو پھر دل کہیں کسے

رُودادِ غم طویل تو اتنی نہیں، مگر

کوئی کہاں ہے مدِ مقابل، کہیں کسے

بچتے بچاتے موجِ حوادث سے آ کے ہم

ساحل پہ ڈوب جائیں تو ساحل کہیں کسے

Friday, 15 October 2021

لپٹ رہی ہیں جو تجھ سے دعائیں میری ہیں

 لپٹ رہی ہیں جو تجھ سے دعائیں میری ہیں

ہوا کا شور نہیں ہے صدائیں میری ہیں

کسی بھی راہ سے تم آ سکو تو آ جانا

کہ شہر میرا ہے ساری دشائیں میری ہیں

اڑا رہے ہو یہاں جن کی دھجیاں تم بھی

یہ جان لو کہ وہ ساری ردائیں میری ہیں

درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئے

 درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئے

شعر لکھوں تو یہ تاثیر غزل میں آئے

سنتے آئے ہیں بہت ذکر حسیں خوابوں کا

اب کسی خواب کی تعبیر غزل میں آئے

ان کے چہرے کو میں اس طرح پڑھا کرتا ہوں

جیسے غم کی کوئی تفسیر غزل میں آئے

Thursday, 14 October 2021

چھپا ہے کرب مسلسل ہوا کے لہجے میں

 چھپا ہے کرب مسلسل ہوا کے لہجے میں

کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں

میں اس کی قدر کروں گا جو میرے عیبوں کو

مِرے ہی منہ پہ کہے آشنا کے لہجے میں

زمانہ آج بھی قاصر ہے یہ سمجھنے سے

سفر کی بات ہوئی کیوں ہوا کے لہجے میں

Wednesday, 5 May 2021

بے نیاز بہار سا کیوں ہے

 بے نیاز بہار سا کیوں ہے

دل کو زخموں سے پیار سا کیوں ہے

وہ خفا ہیں کہ ہم غریبوں کو

غم پہ کچھ اختیار سا کیوں ہے

میری آنکھوں کے خواب تو غم ہیں

وہ مگر بے قرار سا کیوں ہے

Monday, 3 May 2021

ہجوم درد ملا امتحان ایسا تھا

 ہجومِ درد ملا امتحان ایسا تھا

مگر وہ چپ ہی رہا بے زبان ایسا تھا

کسی کی عزت و ناموس پر نہ آنچ آئی

لُٹا تو اُف بھی نہ کی مہربان ایسا تھا

زمانہ گزرا، مگر داغ رہ گیا دل پر

نہ مٹ سکا کسی صورت نشان ایسا تھا