Monday, 3 May 2021

ہجوم درد ملا امتحان ایسا تھا

 ہجومِ درد ملا امتحان ایسا تھا

مگر وہ چپ ہی رہا بے زبان ایسا تھا

کسی کی عزت و ناموس پر نہ آنچ آئی

لُٹا تو اُف بھی نہ کی مہربان ایسا تھا

زمانہ گزرا، مگر داغ رہ گیا دل پر

نہ مٹ سکا کسی صورت نشان ایسا تھا

متاعِ زیست لُٹا دی گئی، مگر اس نے

ذرا بھی قدر نہ کی بد گمان ایسا تھا

نظر شناس تھا کیسا کہ عمر بھر انجم

بھُلا سکا نہ اسے میہمان ایسا تھا


غیاث انجم 

No comments:

Post a Comment