Showing posts with label امیر عباس راقب. Show all posts
Showing posts with label امیر عباس راقب. Show all posts

Sunday, 27 February 2022

کیمیا کرتا ہے یا راکھ بنا دیتا ہے

 کیمیا کرتا ہے یا راکھ بنا دیتا ہے

دیکھنا ہے کہ تِرا غم ہمیں کیا دیتا ہے

کچھ وسیلے بھی ضروری ہیں رواداری کو

ورنہ یہ سب کو پتا ہے کہ خدا دیتا ہے

جانتا ہوں کہ محبت نے رلایا ہے اسے

پھر بھی وہ شخص محبت کو دعا دیتا ہے

Tuesday, 11 January 2022

عشق رہتا ہے باوضو مجھ میں

 عشق رہتا ہے باوضو مجھ میں

ہوتی رہتی ہے اللہ ہُو مجھ میں

جب بھی اندر سے ٹوٹ جاتا ہوں

کوئی ہوتا ہے سرخرو مجھ میں

میں جو چپ کی زبان بولتا ہوں

کون کرتا ہے گفتگو مجھ میں

Tuesday, 4 January 2022

میں کیوں کہوں کہ مجھے بے امان چھوڑ گیا

 میں کیوں کہوں کہ مجھے بے امان چھوڑ گیا 

وہ اپنی یادوں کا اک سائبان چھوڑ گیا 

تمام عمر اب اس کے بغیر جینا ہے 

میرے لیے وہ عجب امتحان چھوڑ گیا 

میں گفتگو کے تکلف سے بچ گیا آخر

وہ بے زبان مجھے بے زبان چھوڑ گیا

Monday, 3 January 2022

عجیب وحشت میں مبتلا ہوں خبر نہیں ہے

 عجیب وحشت میں مبتلا ہوں خبر نہیں ہے

میں جی رہا ہوں یا مر چکا ہوں خبر نہیں ہے

خبر نہیں ہے کہ کون ہوں اور کہاں پہ ہوں میں

میں رو رہا ہوں کہ ہنس رہا ہوں خبر نہیں ہے

خبر نہیں ہے کہ پڑھ رہے ہو یا سن رہے ہو

کوئی کہانی ہوں یا صدا ہوں خبر نہیں ہے

Sunday, 2 January 2022

ہراساں آپ کو کرنا ہے احتیاط کے ساتھ

 ہراساں آپ کو کرنا ہے احتیاط کے ساتھ

فصیلِ جاں سے گزرنا ہے احتیاط کے ساتھ

گئے دنوں میں تو عُجلت نے مار ڈالا تھا

نئے دنوں میں سُدھرنا ہے احتیاط کے ساتھ

نہ داغدار ہو جائے تمہاری چوکھٹ بھی

یہاں پہ سر کو بھی دھرنا ہے احتیاط کے ساتھ