Sunday, 2 January 2022

ہراساں آپ کو کرنا ہے احتیاط کے ساتھ

 ہراساں آپ کو کرنا ہے احتیاط کے ساتھ

فصیلِ جاں سے گزرنا ہے احتیاط کے ساتھ

گئے دنوں میں تو عُجلت نے مار ڈالا تھا

نئے دنوں میں سُدھرنا ہے احتیاط کے ساتھ

نہ داغدار ہو جائے تمہاری چوکھٹ بھی

یہاں پہ سر کو بھی دھرنا ہے احتیاط کے ساتھ

فلک پہ سوئے ستارے نہ جاگ جائیں کہیں

ہمیں زمیں پہ اترنا ہے احتیاط کے ساتھ

ہماری کرچیاں تاریخ کو نہ چبھ جائیں

بکھرنا ہے تو بکھرنا ہے احتیاط کے ساتھ

تمہارے ہجر کا راقب یہ پہلا ہدیہ ہے

سو اشک آنکھ میں بھرنا ہے احتیاط کے ساتھ


امیر عباس راقب

No comments:

Post a Comment