Sunday, 2 January 2022

تھکاوٹوں سے بیٹھ کے سفر اتارئیے کہیں

 تھکاوٹوں سے بیٹھ کے سفر اتارئیے کہیں

بلا سے گرم ریت ہو اگر نہ مل سکے زمیں

کہو تو اس لباس میں تمہارے ساتھ میں چلوں

غبار اوڑھ لوں گا میں، بدن پہ آج کچھ نہیں

بطوں کا غول اب یہاں اتر کے پا سکے گا کیا

کھڑے ہو تم جہاں پہ اب وہ نرم جھیل تھی نہیں

کھلے ہوئے مکان میں ادا بھی تیری خوب ہے

زباں سے قُفل کی طلب کلید زیر آستیں

تمام عمر پا بہ گل نہ جنگلوں سے مل سکا

درخت زرد حال سا جو اب بھی ہے کھڑا یہیں

وہ رنگ کا ہجوم سا وہ خوشبوؤں کی بھیڑ سی

وہ لفظ لفظ سے جواں وہ حرف حرف سے حسیں

ابھی بھی اس مکان میں پلنگ تخت میز ہے

گئے جو سیر کے لیے تو پھر نہ آ سکے مکیں


وہاب دانش

No comments:

Post a Comment