بس یونہی
آ کسی روز مرنے والوں کو
یہ یقیں دیں کہ ہم مریں گے نہیں
جسم بدلیں گے بد حواسی کا
بے یقینی کا بد گمانی کا
ایک ابدی خیال میں ڈھل کر
بس یونہی
آ کسی روز مرنے والوں کو
یہ یقیں دیں کہ ہم مریں گے نہیں
جسم بدلیں گے بد حواسی کا
بے یقینی کا بد گمانی کا
ایک ابدی خیال میں ڈھل کر
فریبِ ضو میں ہمیں کس نے لا اُچھالا ہے
سُجھائی کچھ نہیں دیتا، کہاں اجالا ہے
وگرنہ کون تھا جو تیری پرورش کرتا
خدائے فکر تجھے میں نے ہی تو پالا ہے
تماشہ دیکھتی آنکھو! سلامتی پاؤ
تمہارے شوق سے کرتب مرا نرالا ہے
بس یونہی
آ کسی روز مرنے والوں کو
یہ یقیں دیں کہ ہم مریں گے نہیں
جسم بدلیں گے بد حواسی کا
بے یقینی کا بد گمانی کا
ایک ابدی خیال میں ڈھل کر
خواب گر خواب بناتا ہی چلا جاتا ہے
جس کو جو آئے سمجھ اس کو اٹھا لاتا ہے
رات بجھتی ہے تو جاگ اٹھتے ہیں وحشی منظر
دن اجڑتا ہے تو دل خوف پہ اکساتا ہے
تُو نے جلتے ہوئے منظر کو ہوا کیوں دی تھی
راکھ اب اڑنے لگی ہے تو کدھر جاتا ہے
میں اپنے نقش بنا لوں تو پھر نکلتے ہیں
ذرا وجود میں آ لوں تو پھر نکلتے ہیں
بہت اڑائے ہے یہ خاک چار سُو میری
گماں کی خاک اُڑا لوں تو پھر نکلتے ہیں
میں اپنے کرب کا اعلان کرنے والا ہوں
میں کُھل کے شور مچا لوں تو پھر نکلتے ہیں
ہم ہیں ٹوٹے ہوئے ہم ہیں ہارے ہوئے
داستانوں میں وہ جو ہیں مارے ہوئے
زندگی کے فریبوں سے کس کو مفر
اس کے ہاتھوں گرفتار سارے ہوئے
وہ جو بجھتے گئے تیرگی بن گئے
وہ جو روشن رہے وہ ستارے ہوئے
سوچ رکھی تھیں بہت باتیں میں اب بُھول گیا
رنگ محفل ہی کچھ ایسا ہے کہ سب بھول گیا
وہ اذیت تھی کہ دن رات گزرتے ہی نہ تھے
پھر ہوا یوں کہ اذیت کا سبب بھول گیا
یہ مرا سر کو جھٹکنا تجھے سمجھاتا نہیں
کب تِرے سحر سے نکلا تجھے کب بھول گیا
تِرا لہجہ، تِری پہچان مبارک ہو تجھے
تِری وحشت تِرا ہیجان مبارک ہو تجھے
میں محبت کا پجاری ہوں، سو میں جاتا ہوں
یعنی، نفرت کا یہ سامان مبارک ہو تجھے
آنکھ میں طنز و رعونت کی چمک باقی رہے
لب پہ یہ تلخ سی مُسکان مبارک ہو تجھے