Showing posts with label شاہد فیروز. Show all posts
Showing posts with label شاہد فیروز. Show all posts

Thursday, 8 December 2022

آ کسی روز مرنے والوں کو یہ یقیں دیں

 بس یونہی

آ کسی روز مرنے والوں کو

یہ یقیں دیں کہ ہم مریں گے نہیں

جسم بدلیں گے بد حواسی کا

بے یقینی کا بد گمانی کا

ایک ابدی خیال میں ڈھل کر

Saturday, 9 April 2022

فریب ضو میں ہمیں کس نے لا اچھالا ہے

 فریبِ ضو میں ہمیں کس نے لا اُچھالا ہے

سُجھائی کچھ نہیں دیتا، کہاں اجالا ہے

وگرنہ کون تھا جو تیری پرورش کرتا

خدائے فکر تجھے میں نے ہی تو پالا ہے

تماشہ دیکھتی آنکھو! سلامتی پاؤ

تمہارے شوق سے کرتب مرا نرالا ہے

Wednesday, 2 March 2022

خواہشوں کو جہاں بنائیں گے

 بس یونہی

آ کسی روز مرنے والوں کو 

یہ یقیں دیں کہ ہم مریں گے نہیں

جسم بدلیں گے بد حواسی کا

بے یقینی کا بد گمانی کا

ایک ابدی خیال میں ڈھل کر 

Wednesday, 17 November 2021

خواب گر خواب بناتا ہی چلا جاتا ہے

 خواب گر خواب بناتا ہی چلا جاتا ہے

جس کو جو آئے سمجھ اس کو اٹھا لاتا ہے

رات بجھتی ہے تو جاگ اٹھتے ہیں وحشی منظر

دن اجڑتا ہے تو دل خوف پہ اکساتا ہے

تُو نے جلتے ہوئے منظر کو ہوا کیوں دی تھی

راکھ اب اڑنے لگی ہے تو کدھر جاتا ہے

Tuesday, 2 November 2021

میں اپنے نقش بنا لوں تو پھر نکلتے ہیں

 میں اپنے نقش بنا لوں تو پھر نکلتے ہیں

ذرا وجود میں آ لوں تو پھر نکلتے ہیں

بہت اڑائے ہے یہ خاک چار سُو میری

گماں کی خاک اُڑا لوں تو پھر نکلتے ہیں

میں اپنے کرب کا اعلان کرنے والا ہوں

میں کُھل کے شور مچا لوں تو پھر نکلتے ہیں

Sunday, 31 October 2021

ہم ہیں ٹوٹے ہوئے ہم ہیں ہارے ہوئے

 ہم ہیں ٹوٹے ہوئے ہم ہیں ہارے ہوئے

داستانوں میں وہ جو ہیں مارے ہوئے

زندگی کے فریبوں سے کس کو مفر

اس کے ہاتھوں گرفتار سارے ہوئے

وہ جو بجھتے گئے تیرگی بن گئے

وہ جو روشن رہے وہ ستارے ہوئے

سوچ رکھی تھیں بہت باتیں میں اب بھول گیا

 سوچ رکھی تھیں بہت باتیں میں اب بُھول گیا

رنگ محفل ہی کچھ ایسا ہے کہ سب بھول گیا

وہ اذیت تھی کہ دن رات گزرتے ہی نہ تھے

پھر ہوا یوں کہ اذیت کا سبب بھول گیا

یہ مرا سر کو جھٹکنا تجھے سمجھاتا نہیں

کب تِرے سحر سے نکلا تجھے کب بھول گیا

Thursday, 26 August 2021

ترا لہجہ تری پہچان مبارک ہو تجھے

 تِرا لہجہ، تِری پہچان مبارک ہو تجھے

تِری وحشت تِرا ہیجان مبارک ہو تجھے

میں محبت کا پجاری ہوں، سو میں جاتا ہوں

یعنی، نفرت کا یہ سامان مبارک ہو تجھے

آنکھ میں طنز و رعونت کی چمک باقی رہے

لب پہ یہ تلخ سی مُسکان مبارک ہو تجھے