Saturday, 9 April 2022

فریب ضو میں ہمیں کس نے لا اچھالا ہے

 فریبِ ضو میں ہمیں کس نے لا اُچھالا ہے

سُجھائی کچھ نہیں دیتا، کہاں اجالا ہے

وگرنہ کون تھا جو تیری پرورش کرتا

خدائے فکر تجھے میں نے ہی تو پالا ہے

تماشہ دیکھتی آنکھو! سلامتی پاؤ

تمہارے شوق سے کرتب مرا نرالا ہے

میں اپنے کرب کو سہلا رہا ہوں مدت سے

یہ میری راکھ پہ سر رکھ کے سونے والا ہے

تِرے حصار میں آ کر بدل گیا ہوں میں

مِرا وجود بھی اب روشنی کا ہالہ ہے

مِرے لیے ہے وہی میرا حکمِ کن شاہد

حصارِ وقت سے جو لمحہ بھی نکالا ہے


شاہد فیروز

No comments:

Post a Comment