Showing posts with label نوشین قمبرانی​. Show all posts
Showing posts with label نوشین قمبرانی​. Show all posts

Saturday, 5 September 2020

اے یادگار شہر اجل وصل جاں میں رہ

اے یادگارِ شہرِ اجل، وصلِ جاں میں رہ
اے ہجرتوں کے پیڑ، نظر کی اماں میں رہ
خوابوں کے نم کدے سے گزر کر زمیں پہ آ
شیرینئ خیال میں،۔۔ آبِ گماں میں رہ
اس گمشدہ وجود کی خوشبو کو ڈھونڈنے
گم گشتہ سبزہ زار کی راہِ رواں میں رہ

خوابوں کی باد غم چلی یادوں کا نمکدہ کھلا

خوابوں کی بادِ غم چلی، یادوں کا نم کدہ کُھلا
ساۓ میں چِیڑ کے مِری آنکھوں پہ کیا سے کیا کھلا
جتنا قدیم وقت⏲ ہے، اُتنا قدیم ہے فسوں
اور اس سے بھی قدیم تر ہے ہجرِ سوختہ، کھلا
جادوئی ریگزار تھے میرے تمیارے درمیاں
میرے تمہارے درمیاں پُر ہول فاصلہ کھلا

Friday, 4 September 2020

ہمیشگی کے پرندوں کو رنگ بھائے نہیں

ہمیشگی کے پرندوں کو رنگ بھائے نہیں
وہ سبز پانی پہ اڑ کر بھی مسکرائے نہیں
تمام ہوتی ہوئی راہ سے بلائے نہیں
ہوا سے کہہ دو مجھے نیند سے جگائے نہیں
لے اپنا دل مِرے داغوں کی چھاؤں سے بھر لے
پھر اس سے آگے شفق تک کوئی سرائے نہیں

وہ کون ہیں جو گلے سے لگائے رکھتے ہیں

وہ کون ہیں جو گلے سے لگائے رکھتے ہیں
سِرے سے ہیں ہی نہیں پھر بھی سائے رکھتے ہیں
بہار بن کے تمنا کھلائے رکھتے ہیں
خزاں مزاج بھی کیا ظرف ہائے رکھتے ہیں
وہ میری آگ کو رکھتے ہیں اپنے سِینے میں
وہ میری لَو سے مِرا دل بچائے رکھتے ہیں

Wednesday, 2 September 2020

اف گلستاں میں بہاروں کا قضا ہو جانا

اف گلستاں میں بہاروں کا قضا ہو جانا
ہائے رستے میں ہی یاروں کا جدا ہو جانا
راہِ پُر خار میں نامُوسِ وطن کی خاطر
بے خطر جاں نثاروں کا فدا ہو جانا
ہونا تاریخ میں ایمان فروشوں کا ذلیل
کم نظر حرص کے ماروں کا فنا ہو جانا

میں نے ہاتھ ہوا کا تھاما ساتھ چلا آنسو

💧میں نے ہاتھ ہوا کا تھاما ساتھ چلا آنسو
خانۂ دل میں شام کی راکھ کا ڈھیر ہوا آنسو
تُو ہے، تیری آنکھیں ہیں افلاک کے بھاؤ بھید
میں ہوں، میرے ساتھ پرانے خواب، دِیا، آنسو
میری زمیں کے چار وسائل چار ہی روپ سروپ
دیوانے اور باداموں کے پھول، وفا، آنسو

Tuesday, 1 September 2020

شکستہ لشکروں کی تشنگی ہوں

شکستہ لشکروں کی تشنگی ہوں
میں صحراؤں کے ساحل پر پڑی ہوں
ہمیشہ جو رہے، وہ نِیستی ہوں
بقا کے دائروں میں گھومتی ہوں
تِرے سینے میِں ہوں محوِ سفر میں
خلا ہوں اور تجھ میں پھیلتی ہوں

ایک سا چہرہ ایک سی حیرت ایک ہوا خشکابوں کی

ایک سا چہرہ ایک سی حیرت ایک ہوا خُشکابوں کی
کاریزوں کی پِیلاہٹ، اور کچی نیند سرابوں کی
دِیواروں کو چاٹ رہی تھی سبزی مائل ایک بَلا
دروازے مبہوت تھے تصویروں میں پاک کتابوں کی
جلادوں کی قہرآلود آنکھوں کی اوٹ میں شفقت ہو
کوڑے مارنے والے ہاتھوں میں لرزش ہو خوابوں کی

بدی کا ترانہ

Axiom of Evil

(بدی کا ترانہ)

میں اپنی موت سے باہر کھڑی اک اور دنیا ہوں
مِرے زہریلے پانی کے سمندر میں
خداؤں کے جہاز اندھے کھڑے ہیں
مِرے صحراؤں میں کوڑوں کی ضربوں سے
غلاموں کے بدن نیلے پڑے ہیں

Monday, 31 August 2020

جنگلوں میں گھنی جھاڑیوں سے نکلتی ہوئی

The Axiom of Infinity

جنگلوں میں گھنی جھاڑیوں سے نکلتی ہوئی
کس نے دیکھی تھیں
صحراؤں میں تِشنگی ناپتی
ڈر کے غاروں میں سہمے ہوئے
چار پایوں کے تن پہ برستی ہوئی مہرباں وُسعتیں؟

وسائل؛ سکھ کے موسم کی نظموں سے

وسائل

سُکھ کے موسم کی نظموں سے
لفظوں کے مُردوں کی بُو پھیلتی جا رہی ہے یہاں
جبکہ سازِ بقا کی صداؤں میں محرومیوں
بے بسیوں کی آہیں گھٹی جاتی ہیں
آپ اپنے جگر نوچ ڈالے ہیں عشاق نے

نادم ہیں قافلے ترے

The Separated Lands of Time

نادِم ہیں قافلے تِرے
شرمندہ سارباں
صبحیں تِری بلاؤں کے رنگوں سے ضوفشاں
ہر رات قہرِ جاوداں
ہر شام بد گماں
پیلی ہے خامشی تِری