اے یادگارِ شہرِ اجل، وصلِ جاں میں رہ
اے ہجرتوں کے پیڑ، نظر کی اماں میں رہ
خوابوں کے نم کدے سے گزر کر زمیں پہ آ
شیرینئ خیال میں،۔۔ آبِ گماں میں رہ
اس گمشدہ وجود کی خوشبو کو ڈھونڈنے
پھولوں کی عمر چن کہ تُو مجھ سے جدا نہ ہو
بن کر ہوا، ہمیشگی کے صبحداں میں رہ
دیوانگی کو چھوڑ کے ملتا ہے گر شرف
🌼بہتر یہی ہے قافلۂ رائیگاں میں رہ
دیدہ ورانِ فن کی گروہ بندیوں سے بھاگ
غارِ ہنر کی چپ میں، یا کنجِ نِہاں میں رہ
آنکھوں میں تیری رات ہے اور رات میں سفر
کچھ پَل ٹھہر، بُریدہ شفق آستاں میں رہ
جو داغ جل رہے ہیں یہ لشکر کو سونپ دے
لَو بن کے اپنی مٹی کے آئندگاں میں رہ
تیرے لیے نہیں رہی بھیدوں بھری فضا
اے عمر! خود سے آنکھ ملا، نیستاں میں رہ
نوشین قمبرانی
No comments:
Post a Comment