Saturday, 5 September 2020

خوابوں کی باد غم چلی یادوں کا نمکدہ کھلا

خوابوں کی بادِ غم چلی، یادوں کا نم کدہ کُھلا
ساۓ میں چِیڑ کے مِری آنکھوں پہ کیا سے کیا کھلا
جتنا قدیم وقت⏲ ہے، اُتنا قدیم ہے فسوں
اور اس سے بھی قدیم تر ہے ہجرِ سوختہ، کھلا
جادوئی ریگزار تھے میرے تمیارے درمیاں
میرے تمہارے درمیاں پُر ہول فاصلہ کھلا
آنکھوں میں صبحداں لیے، بانہوں میں لَوئے شام رکھ
کیا اس سکوتِ جان میں مجھ پر شفق نما کھلا
میں خاکِ گمشدہ رہی، تُو دشتِ بے خدا رہا
نہ تیری وارثی ہوئی، نہ میرا ہی پتا کھلا
گیتوں میں ریت بھر گئی، آواز پیاس بن گئی
خانہ بدوش مر گئے،۔ اونٹوں کا قافلہ کھلا
دکھ بھی امان میں نہ تھے داغوں کی خیر بھی نہ تھی
رستے شہید ہو گئے،۔ سینہ زمین کا کھلا

نوشین قمبرانی

No comments:

Post a Comment