Saturday, 5 September 2020

نیند آتی ہے کھلی آنکھ سے ڈر جاتی ہے

رات

نیند آتی ہے کھلی آنکھ سے ڈر جاتی ہے
سہمی سہمی ہوئی چپ چاپ گزر جاتی ہے
خامشی گھومتی رہتی ہے کھلی محفل میں
نیم کا پیڑ اکیلا ہی کھڑا رہتا ہے
چیخ اٹھتا ہے پرندہ کوئی سوۓ سوۓ
صبح کر دیتی ہے شبنم یوں ہی روتے روتے

محمد علوی

No comments:

Post a Comment