Showing posts with label ناہید قاسمی. Show all posts
Showing posts with label ناہید قاسمی. Show all posts

Wednesday, 9 February 2022

ایک روشن جواں جستجو سو گئی

 ایک روشن جواں جستجو


جستجو کا نڈر قافلہ

مشعلیں تھام کر، رات کو چیرتا

ہنستا گاتا ہوا، اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا

سب کے چہروں پر روشن ہوئیں کاوشیں

کھوجی آنکھوں میں جھلمل ستارے جلے

Sunday, 26 September 2021

اپنی اپنی راہوں پر مدت تک چلتے چلتے

 تسلی


اپنی اپنی راہوں پر مُدت تک چلتے چلتے

آج اچانک اک چوراہے پر جو تم سے میل ہوا

تو میں نے تیری گہری آنکھوں میں جھانکا

اور چونک اُٹھی

ان میں تپتے صحراؤں کا بسیرا تھا

Sunday, 13 June 2021

میرا دل میدانوں جیسا وسعت سے بھرپور

 بنجر دل سیراب کرو


میرا دل میدانوں جیسا وسعت سے بھرپور

لیکن وہ تو صدی صدی کی قرن قرن کی دُھول سمیٹے

ویراں ویراں اجڑا اجڑا بنجر بنجر رہتا ہے

آؤ، نس نس دُکھتے لوگو! آنسوؤں کی گھنگھور گھٹائیں لے کر آؤ

میرے دل پر آ کر اُمڈو

Friday, 11 June 2021

رخصت ہوتے سورج کی کرنوں کا آنچل تھامے تھامے

 شکوے کی شام


رُخصت ہوتے سُورج کی کِرنوں کا آنچل تھامے تھامے

میں بھی چھت پر جا پہنچی تھی

مِرے گِلے شِکوے تو سارے گُونگے بن بیٹھے تھے

اور میری کچھ کہتی آنکھیں

بارہ دری کی چلمن کے حالوں میں پھنستی تھیں

یاد دہانی اندھی رات کے آتے ہی

 یاد دہانی


اندھی رات کے آتے ہی

سب چُپ چاپ سے اک گوشے میں سِمٹ گئے

پر میں نے اپنی کُٹیا کی تاریکی سے جنگ کی ٹھانی

خود کو اک مٹی کے دِیے میں ڈھال دیا

تب چھوٹے سے آنگن میں ننھی منی مُسکاتی کرنوں نے جھُومر ڈالا

Thursday, 10 June 2021

بے شک زخمی پاؤں ہیں تیرے

 اے ہوا


بے شک زخمی پاؤں ہیں تیرے

گَرد سے اَٹا ہُوا ہے چہرہ

لیکن پھر بھی تیرا ماتھا کبھی نہیں چُوموں گی

تُو نے اپنے پاؤں تلے کانٹوں کو روندا

ٹھیک کِیا

تم نے مجھ کو پیار کے جتنے ہیرے موتی بخشے تھے

 ہیرے موتی


تم نے مجھ کو پیار کے 

جتنے ہیرے موتی بخشے تھے

میں نے وہ سب بانٹ دئیے

تب سوچا تھا

یاد کی کُٹیا خالی کر کے