ایک روشن جواں جستجو
جستجو کا نڈر قافلہ
مشعلیں تھام کر، رات کو چیرتا
ہنستا گاتا ہوا، اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا
سب کے چہروں پر روشن ہوئیں کاوشیں
کھوجی آنکھوں میں جھلمل ستارے جلے
ایک روشن جواں جستجو
جستجو کا نڈر قافلہ
مشعلیں تھام کر، رات کو چیرتا
ہنستا گاتا ہوا، اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا
سب کے چہروں پر روشن ہوئیں کاوشیں
کھوجی آنکھوں میں جھلمل ستارے جلے
تسلی
اپنی اپنی راہوں پر مُدت تک چلتے چلتے
آج اچانک اک چوراہے پر جو تم سے میل ہوا
تو میں نے تیری گہری آنکھوں میں جھانکا
اور چونک اُٹھی
ان میں تپتے صحراؤں کا بسیرا تھا
بنجر دل سیراب کرو
میرا دل میدانوں جیسا وسعت سے بھرپور
لیکن وہ تو صدی صدی کی قرن قرن کی دُھول سمیٹے
ویراں ویراں اجڑا اجڑا بنجر بنجر رہتا ہے
آؤ، نس نس دُکھتے لوگو! آنسوؤں کی گھنگھور گھٹائیں لے کر آؤ
میرے دل پر آ کر اُمڈو
شکوے کی شام
رُخصت ہوتے سُورج کی کِرنوں کا آنچل تھامے تھامے
میں بھی چھت پر جا پہنچی تھی
مِرے گِلے شِکوے تو سارے گُونگے بن بیٹھے تھے
اور میری کچھ کہتی آنکھیں
بارہ دری کی چلمن کے حالوں میں پھنستی تھیں
یاد دہانی
اندھی رات کے آتے ہی
سب چُپ چاپ سے اک گوشے میں سِمٹ گئے
پر میں نے اپنی کُٹیا کی تاریکی سے جنگ کی ٹھانی
خود کو اک مٹی کے دِیے میں ڈھال دیا
تب چھوٹے سے آنگن میں ننھی منی مُسکاتی کرنوں نے جھُومر ڈالا
اے ہوا
بے شک زخمی پاؤں ہیں تیرے
گَرد سے اَٹا ہُوا ہے چہرہ
لیکن پھر بھی تیرا ماتھا کبھی نہیں چُوموں گی
تُو نے اپنے پاؤں تلے کانٹوں کو روندا
ٹھیک کِیا
ہیرے موتی
تم نے مجھ کو پیار کے
جتنے ہیرے موتی بخشے تھے
میں نے وہ سب بانٹ دئیے
تب سوچا تھا
یاد کی کُٹیا خالی کر کے