Sunday, 13 June 2021

میرا دل میدانوں جیسا وسعت سے بھرپور

 بنجر دل سیراب کرو


میرا دل میدانوں جیسا وسعت سے بھرپور

لیکن وہ تو صدی صدی کی قرن قرن کی دُھول سمیٹے

ویراں ویراں اجڑا اجڑا بنجر بنجر رہتا ہے

آؤ، نس نس دُکھتے لوگو! آنسوؤں کی گھنگھور گھٹائیں لے کر آؤ

میرے دل پر آ کر اُمڈو

ایسے ٹُوٹ کے برسو جیسے ساون برسے

میرا دل سیراب کرو

میرا دل سیراب ہُوا تو تم دیکھو گے

کیسے بنجر دھرتی میں سے نازک اکھوئے پھُوٹتے ہیں

پھر جب واپس جاؤ گے تو خالی ہاتھ نہیں جاؤ گے

میرے دل کے پھُول تمہارے گجرے ہوں گے

اور تمہاری آنکھوں میں اشکوں کی بجائے نغمے ہوں گے


ناہید قاسمی

No comments:

Post a Comment