Sunday, 13 June 2021

یوں تو تنہائی میں گھبرائے بہت

 یوں تو تنہائی میں گھبرائے بہت

مل کے لوگوں سے بھی پچھتائے بہت

ایسے لمحے زیست میں آئے بہت

ہم نے دھوکے جان کر کھائے بہت

یہ نہیں معلوم کہ کیا بات تھی

رو رہے تھے میرے ہمسائے بہت

تم ہی بتلا دو کہ کوئی کیا کرے

زندگی جب بوجھ بن جائے بہت

ہم فرازِ دار تک تنہا گئے

دو قدم تک لوگ ساتھ آئے بہت

شہرِ غم جیسا تھا ویسا ہی رہا

یوں جہاں میں انقلاب آئے بہت

ڈوبنا اختر تھا قسمت میں لکھا

ویسے ہم طوفاں سے ٹکرائے بہت


وکیل اختر

No comments:

Post a Comment