Showing posts with label واصف رودولوی. Show all posts
Showing posts with label واصف رودولوی. Show all posts

Saturday, 15 August 2026

گنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے

 گُنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے

سیاہی نامۂ عِصیاں کی خُود کافُور ہو جائے

گئی تھیں دُور تک چِھینٹیں لہُو کی ذبح کرنے میں

ہمارے قتل کا قِصہ نہ کیوں مشہُور ہو جائے

اسیرِ گیسُوئے پُر پیچ کو کیا لُطف جینے کا

شبِ فُرقت کی تاریکی اگر کافُور ہو جائے

Tuesday, 3 February 2026

اسی کو حق ہے تمنائے لطف یار کرے

 اسی کو حق ہے تمنائے لطف یار کرے

جو آپ اپنی محبت پہ اعتبار کرے

بہت بجا یہ ترا مشورہ ہے اے واعظ

بھری بہار میں پرہیز بادہ خوار کرے

فسردگی سے بدل دے شگفتگی دل کی

جو چاہے ایک اشارے میں چشمِ یار کرے

Tuesday, 7 January 2025

جہان خود غرض میں کون کس کے کام آتا ہے

 جہان خود غرض میں کون کس کے کام آتا ہے

جو کام آتا ہے تو تنہا دلِ💔 ناکام آتا ہے

ہوا ہے اور نہ ایسا ہو گا اب خونریز عالم میں

لہو دیتی ہے دل کی رگ جب ان کا نام آتا ہے

لُنڈھائیں خُم کے خُم سیراب اور پیاسوں کے حصے میں

صُراحی ہے نہ مِینا ہے، نہ کوئی جام🍷 آتا ہے

Saturday, 4 January 2025

جسے ہے عشق ختم المرسلین سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جسے ہے عشق ختم المرسلیں سے

وہ فارغ ہے غمِ دنیا و دیں سے

محمدﷺ جب نہ تھے دنیا تھی تاریک

ضیاء پھیلی اسی مہرِ مبیں سے

مخاطب کون ہے جُز ذاتِ احمدﷺ

خطابِ رحمۃ اللعالمیںﷺ سے

Sunday, 14 November 2021

درد دل اس سے بیاں کرتا ہے ناداں کوئی

دردِ دل اس سے بیاں کرتا ہے ناداں کوئی

سُن کے جو کہہ دے کہ اس کا نہیں درماں کوئی

دولت ہوش و خِرد بھی وہ لُٹا دیتے ہیں

تیرے دیوانے نہیں رکھتے ہیں ساماں کوئی

دفن ہیں حسرت و ارماں کی ہزاروں لاشیں

دل سے پہلو میں کہ ہے گورِ غریباں کوئی