گُنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے
سیاہی نامۂ عِصیاں کی خُود کافُور ہو جائے
گئی تھیں دُور تک چِھینٹیں لہُو کی ذبح کرنے میں
ہمارے قتل کا قِصہ نہ کیوں مشہُور ہو جائے
اسیرِ گیسُوئے پُر پیچ کو کیا لُطف جینے کا
شبِ فُرقت کی تاریکی اگر کافُور ہو جائے