شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں
کہ ایک عُمر سے ہم لوگ بے زبان سے ہیں
نہ ہو جو شہر کی مانند بُود و باش نہیں
یہی بہت ہے کہ صحرا میں ہم امان سے ہیں
مِری طرح ہدف عہد بے یقینی ہیں
خود اپنے آپ سے جو لوگ بدگُمان سے ہیں
شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں
کہ ایک عُمر سے ہم لوگ بے زبان سے ہیں
نہ ہو جو شہر کی مانند بُود و باش نہیں
یہی بہت ہے کہ صحرا میں ہم امان سے ہیں
مِری طرح ہدف عہد بے یقینی ہیں
خود اپنے آپ سے جو لوگ بدگُمان سے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہ دنیا اس کی ہمسر ہے نہ جنت اس کی ہمسر ہے
مدینے کی زمیں کا ہر نظارہ روح پرور ہے
مہہ و انجم کی حیرت کا ٹھکانہ ہی نہیں کوئی
خدائے دو جہاں کی راہ کا راہی سفر پر ہے
نظر اس کشمکش میں ہے در شاہ دو عالم پر
یہ در ہے آپ کا یا جنت الفردوس کا در ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل میں بسا کے دیکھ محبت رسولﷺ کی
ہر ہر نفس سے آئے گی نکہت رسولﷺ کی
دونوں جہاں میں جس نے کیا سرخرو ہمیں
وہ دیں ہمیں ملا ہے بدولت رسولﷺ کی
انسانیت کے باب میں سوچے عمل کرے
ہے آدمی پہ فرض یہ سنت رسولﷺ کی
تِرے بغیر عجب بام و در کا عالم ہے
کہاں وہ دشت کا ہو گا جو گھر کا عالم ہے
پڑے گھروں پہ یہ افتاد کیا کہ لوگوں کے
قیام سے بھی نمایاں سفر کا عالم ہے
جو دیکھتے ہیں وہ تحریر کر نہیں سکتے
یہ میرے شہر کے اہلِ ہنر کا عالم ہے
سونا سونا آنگن ہے اور بام و در خاموش
کس سے گفتگو کیجے ہو جو گھر کا گھر خاموش
شمع کی طرح کوئی غم گسار کیا ہو گا
ساتھ ساتھ چلتی ہے رات رات بھر خاموش
کچھ تو مصلحت ہو گی جو زباں نہیں کھلتی
ورنہ تیری محفل میں ہم اور اس قدر خاموش