Showing posts with label رحمان خاور. Show all posts
Showing posts with label رحمان خاور. Show all posts

Friday, 23 October 2026

شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں

 شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں

کہ ایک عُمر سے ہم لوگ بے زبان سے ہیں

نہ ہو جو شہر کی مانند بُود و باش نہیں

یہی بہت ہے کہ صحرا میں ہم امان سے ہیں

مِری طرح ہدف عہد بے یقینی ہیں

خود اپنے آپ سے جو لوگ بدگُمان سے ہیں

Saturday, 18 October 2025

نہ دنیا اس کی ہمسر ہے نہ جنت اس کی ہمسر ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نہ دنیا اس کی ہمسر ہے نہ جنت اس کی ہمسر ہے

مدینے کی زمیں کا ہر نظارہ روح پرور ہے

مہہ و انجم کی حیرت کا ٹھکانہ ہی نہیں کوئی

خدائے دو جہاں کی راہ کا راہی سفر پر ہے

نظر اس کشمکش میں ہے در شاہ دو عالم پر

یہ در ہے آپ کا یا جنت الفردوس کا در ہے

Friday, 17 October 2025

دل میں بسا کے دیکھ محبت رسول کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل میں بسا کے دیکھ محبت رسولﷺ کی

ہر ہر نفس سے آئے گی نکہت رسولﷺ کی

دونوں جہاں میں جس نے کیا سرخرو ہمیں

وہ دیں ہمیں ملا ہے بدولت رسولﷺ کی

انسانیت کے باب میں سوچے عمل کرے

ہے آدمی پہ فرض یہ سنت رسولﷺ کی

Wednesday, 23 October 2024

ترے بغیر عجب بام و در کا عالم ہے

 تِرے بغیر عجب بام و در کا عالم ہے

کہاں وہ دشت کا ہو گا جو گھر کا عالم ہے

پڑے گھروں پہ یہ افتاد کیا کہ لوگوں کے

قیام سے بھی نمایاں سفر کا عالم ہے

جو دیکھتے ہیں وہ تحریر کر نہیں سکتے

یہ میرے شہر کے اہلِ ہنر کا عالم ہے

Tuesday, 3 September 2024

سونا سونا آنگن ہے اور بام و در خاموش

 سونا سونا آنگن ہے اور بام و در خاموش

کس سے گفتگو کیجے ہو جو گھر کا گھر خاموش

شمع کی طرح کوئی غم گسار کیا ہو گا

ساتھ ساتھ چلتی ہے رات رات بھر خاموش

کچھ تو مصلحت ہو گی جو زباں نہیں کھلتی

ورنہ تیری محفل میں ہم اور اس قدر خاموش