Showing posts with label عصمت نیازی. Show all posts
Showing posts with label عصمت نیازی. Show all posts

Friday, 23 August 2024

مدحت سرکار میں لازم ہے خوئے احتیاط

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مِدحتِ سرکار میں لازم ہے خُوئے احتیاط 

یعنی پہلے فکر کو لے جاوٴ سُوئے احتیاط 

ضبط کر اے دل وفورِ شوق در شہرِ نبیﷺ 

ہوش کر اے گِریہ تُو بھی کہ ہے کُوئے احتیاط 

قط  لگاوٴ یوں قلم خُوش خط لکھے نعتِ نبیﷺ

نعت کے ہر لفظ سے آتی ہو بُوئے احتیاط  

Friday, 24 May 2024

رخ انور سے آئی روشنی سنسار میں پہلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رخِ انورؐ سے آئی روشنی سنسار میں پہلے

چمک ایسی نہیں تھی ثابت و سیّار میں پہلے

خدا کا تذکرہ ہو یا بُتانِ دہر کی باتیں 

وہی اقرار میں اول وہی انکار میں پہلے

پرِ پرواز آقاؐ نے ودیعت کر دئیے ان کو

فشانی تو بہت تھی جعفرِ طیّارؓ میں پہلے

Saturday, 26 November 2022

سات رنگوں میں وہی رنگ نمایاں ہو گا

 سات رنگوں میں وہی رنگ نمایاں ہو گا  

یعنی وہ نقشۂ ارژنگ نمایاں ہو گا 

آئینہ صاف کیا جائے وگرنہ اس میں 

عکس چھپ جائے گا اور زنگ نمایاں ہو گا 

سات سُر ایک ہی لے میں مجھے لانا ہوں گے 

تب کہیں جا کے یہ آہنگ نمایاں ہو گا 

Friday, 30 September 2022

یعنی کہ ابھی خواب ہے جاری نہ گئی رات

 یعنی کہ ابھی خواب ہے جاری، نہ گئی رات

دن بھی نکل آیا پہ ہماری نہ گئی رات

رنگوں کے تعاقب میں گزارا  نہ گیا دن

خوشبو کی معیت میں گزاری نہ گئی رات

اک خواب کی تعظیم میں  بستر نہ لپیٹا

اک وعدۂ تعبیر پہ ہاری نہ گئی رات

Sunday, 25 September 2022

جونہی اس حسن فسوں خیز پہ تنقید بڑھی

 جونہی اس حسنِ فسوں خیز پہ تنقید بڑھی 

میرا آواز اٹھانا تھا کہ تائید بڑھی 

بے سبب آنکھ لپکتی نہیں منظر کی طرف

پھول نے رنگ جمایا تو مِری دِید بڑھی  

مجتہد کون ہوا؟ دِینِ محبت میں یہاں 

پائے تحقیق اٹھانے سے بھی تقلید بڑھی 

Saturday, 24 September 2022

سینے سے کھینچ کے دل ہاتھ میں لے آئے ہیں

 سینے سے کھینچ کے دل ہاتھ میں لے آئے ہیں 

یعنی، مرکز کو مضافات میں لے آئے ہیں 

آرزو لائے ہیں یوں مجمعِ آلام میں ہم 

اک پری جیسے کہ جنّات میں لے آئے ہیں 

جان خمیازہ ہے عُجلت کا یہ سُن لیں منصور 

حرفِ آخر تو شروعات میں لے آئے ہیں 

Saturday, 25 December 2021

کہنے کو مشت خاک ابابیل کا بدن

 کہنے کو مُشتِ خاک ابابیل کا بدن

چاہے تو چھید ڈالے یہی فیل کا بدن

خوگر طوافِ کرسئ یزداں کا کیوں نہ ہو

خامہ ہے میرا یہ نہیں جبریل کا بدن

شہ رگ پہ کوتوالِ جہنم مزاج ہے

پگھلے نہیں تو کیا کرے قندیل کا بدن

Saturday, 9 January 2021

نقش بر آب کناروں کے میاں ڈوبتا ہے

 نقش بر آب کناروں کے میاں ڈوبتا ہے

آنکھ سیلاب اٹھائے تو سماں ڈوبتا ہے

مُردہ اجسام تہِ آب نہیں رہ سکتے

ابھی زندہ ہے مِرا دل کہ یہاں ڈوبتا ہے

حکم آیا ہے کہ چِڑیاں نہ چہکنے پائیں

یہ چہکتی ہیں تو پھر شورِ سَگاں ڈوبتا ہے