Showing posts with label انعام ندیم. Show all posts
Showing posts with label انعام ندیم. Show all posts

Thursday, 23 September 2021

خود اپنے اجالے سے اوجھل رہا ہے دیا جل رہا ہے

 خود اپنے اجالے سے اوجھل رہا ہے دِیا جل رہا ہے

نہیں جانتے کس طرح جل رہا ہے، دیا جل رہا ہے

سمندر کی موجوں کو چُھو کر ہوائیں پلٹنے لگی ہیں

ستارہ فلک پر کہیں چل رہا ہے، دیا جل رہا ہے

کوئی فیصلہ تو کرو، راستے سے گزرتی ہواؤ

یہ قصہ بڑی دیر سے ٹل رہا ہے دیا جل رہا ہے

Tuesday, 16 March 2021

کوئی باغ سا سجا ہوا مرے سامنے

 کوئی باغ سا سجا ہوا مِرے سامنے

کہ بدن ہے کوئی کھلا ہوا مرے سامنے

وہی آنکھ ہے کہ ستارہ ہے مرے روبرو

یہ چراغ کیا ہے جلا ہوا مرے سامنے

مِری خواب گاہ میں رات کیسا خمار تھا

کوئی جام سا تھا دھرا ہوا مرے سامنے

Sunday, 7 March 2021

غبار رہ گزر ہے ساتھ میرے

 غبارِ رہ گزر ہے ساتھ میرے

سفر میں ہم سفر ہے ساتھ میرے

کہیں پہلے بھی دیکھا ہے یہ منظر

کوئی بارِ دگر ہے ساتھ میرے

جہاں ملتے ہیں دو رستے وہاں پر

بچھڑ جانے کا ڈر ہے ساتھ میرے

Thursday, 25 February 2021

راستے جس طرف بلاتے ہیں

 راستے جس طرف بلاتے ہیں

ہم اسی سمت چلتے جاتے ہیں

روز جاتے ہیں اپنے خوابوں تک

روز چپ چاپ لوٹ آتے ہیں

اڑتے پھرتے ہیں جو خس و خاشاک

یہ کوئی داستاں سناتے ہیں

Tuesday, 23 February 2021

مانگ کر روز ہی لہو مجھ سے

 مانگ کر روز ہی لہو مجھ سے

شام ہوتی ہے سرخرو مجھ سے

کوئی منزل نہیں مِری منزل

تنگ ہے میری جستجو مجھ سے

ریت پر نقشِ رائیگانی تھا

اور ملتا تھا ہو بہو مجھ سے

Wednesday, 17 February 2021

اپنی ہی روانی میں بہتا نظر آتا ہے

 اپنی ہی روانی میں بہتا نظر آتا ہے

یہ شہر بلندی سے دریا نظر آتا ہے

دیتا ہے کوئی اپنے دامن کی ہوا اس کو

شعلہ سا مِرے دل میں جلتا نظر آتا ہے

اس ہاتھ کا تحفہ تھا اک داغ مِرے دل پر

وہ داغ بھی اب لیکن جاتا نظر آتا ہے

Sunday, 14 February 2021

جس روز ترے ہجر سے فرصت میں رہوں گا

 جس روز تِرے ہجر سے فرصت میں رہوں گا

معلوم نہیں کون سی وحشت میں رہوں گا

کچھ دیر رہوں گا کسی تارے کے جلو میں

کچھ دیر کسی خواب کی خلوت میں رہوں گا

خاموش کھڑا ہوں میں درِ خواب سے باہر

کیا جانیے کب تک اسی حالت میں رہوں گا

Wednesday, 27 January 2021

دل پر کسی پتھر کا نشاں یوں ہی رہے گا

 دل پر کسی پتھر کا نشاں یوں ہی رہے گا

تا عمر یہ شیشے کا مکاں یوں ہی رہے گا

ہم ٹھہرے رہیں گے کسی تعبیر کو تھامے

آنکھوں میں کوئی خواب رواں یوں ہی رہے گا

بُجھ جائے گا اک روز تِری یاد کا شعلہ 

لیکن مِرے سینے میں دھواں یوں ہی رہے گا

Saturday, 23 January 2021

پڑتا تھا اس خیال کا سایہ یہیں کہیں

 پڑتا تھا اس خیال کا سایا یہیں کہیں

بہتا تھا میرے خواب کا دریا یہیں کہیں

جانے کہاں ہے آج مگر پچھلی دھوپ میں

دیکھا تھا ایک ابر کا ٹکڑا یہیں کہیں

دیکھو یہیں پہ ہوں گی تمنا کی کرچیاں

ٹوٹا تھا اعتبار کا شیشہ یہیں کہیں