خود اپنے اجالے سے اوجھل رہا ہے دِیا جل رہا ہے
نہیں جانتے کس طرح جل رہا ہے، دیا جل رہا ہے
سمندر کی موجوں کو چُھو کر ہوائیں پلٹنے لگی ہیں
ستارہ فلک پر کہیں چل رہا ہے، دیا جل رہا ہے
کوئی فیصلہ تو کرو، راستے سے گزرتی ہواؤ
یہ قصہ بڑی دیر سے ٹل رہا ہے دیا جل رہا ہے