غبارِ رہ گزر ہے ساتھ میرے
سفر میں ہم سفر ہے ساتھ میرے
کہیں پہلے بھی دیکھا ہے یہ منظر
کوئی بارِ دگر ہے ساتھ میرے
جہاں ملتے ہیں دو رستے وہاں پر
بچھڑ جانے کا ڈر ہے ساتھ میرے
مجھے رستہ دکھاتا ہے یہ تارہ
کہ خود محوِ سفر ہے ساتھ میرے
سناؤں گا اسے اپنی کہانی
دیا اک رات بھر ہے ساتھ میرے
یہ صحرا پار کر جاؤں گا اک دن
کوئی چھاؤں اگر ہے ساتھ میرے
ندیم آخر ہوا معلوم مجھ کو
کہ وہ بھی بے خبر ہے ساتھ میرے
انعام ندیم
No comments:
Post a Comment