Sunday, 7 March 2021

اگر کچھ تھی تو بس یہ تھی تمنا آخری اپنی

 اگر کچھ تھی تو بس یہ تھی تمنا آخری اپنی

کہ وہ ساحل پہ ہوتے اور کشتی ڈوبتی اپنی

ہمیں تو شامِ غم میں کاٹنی ہے زندگی اپنی

جہاں وہ ہیں وہیں اے چاند لے جا چاندنی اپنی

نہ ہے یہ اضطراب اپنا نہ ہے یہ بے خودی اپنی

تِری محفل میں شاید بھول آیا زندگی اپنی

بصد شوق و مسرت اٹھ کے جلوؤں کی بلائیں لیں

یہ کس منظر پہ جاپہنچی نظر بہکی ہوئی اپنی

تِری محفل سے اب جائیں تو اٹھ کر کہاں جائیں

کہ دنیا بھی یہیں اپنی، ہے عقبیٰ بھی یہیں اپنی

مقدر سے کہیں ملتا ہے موقع جان دینے کا

لٹا دے دولتِ غم پر متاعِ زندگی اپنی

یہیں ٹکرا کے رہ جاتی ہیں نظریں اہلِ عالم کی

تِرے جلوؤں کا پردہ بن گیا دیوانگی اپنی

مناسب ہو تو او ظالم گھڑی بھر کے لیے آ جا

بجھانی ہے تِرے دامن سے شمعِ زندگی اپنی

وہیں چلیے وہیں چلیے تقاضا ہے محبت کا

وہ محفل ہائے جس محفل میں دنیا لٹ گئی اپنی

نہ جلوہ ہے، نہ پردہ ہے، نہ رنگینی ہے اے شعری

خود اپنے شعبدوں سے کھیلتی ہے بے خودی اپنی


شعری بھوپالی

No comments:

Post a Comment