گزاریں عمر ہم ایسی خلش میں
اسیرِ عشق جیسے سرزنش میں
بڑی تاثیر رکھی ہے خدا نے
ہمارے لفظ ہائے پُر کشش میں
میں جل کر راکھ ہو جاؤں گی اک دن
تمہاری بے نیازی کی تپش میں
گزاریں عمر ہم ایسی خلش میں
اسیرِ عشق جیسے سرزنش میں
بڑی تاثیر رکھی ہے خدا نے
ہمارے لفظ ہائے پُر کشش میں
میں جل کر راکھ ہو جاؤں گی اک دن
تمہاری بے نیازی کی تپش میں
کاش
کاش کے تم کو بتائیں ہم
تجھ پہ اس طرح سے حق جتائیں ہم
بے چارگی کو اپنی
تجھ میں کھو کر تجھے دکھائیں ہم
تُو جو بول دے تو فلک کے سمت
یہ رُکی ہوئی ہوا کی سمت
بستی بستی پہ چھا گئی ہوں میں
تیرے حصے میں آ گئی ہوں میں
یوں مِٹی ہوں تمہارے کہنے پر
جیسے دنیا گنوا گئی ہوں میں
شاعری، شوق، خواب اور جیون
دیکھ سب کچھ جلا گئی ہوں میں
سنو مسافر
راہ میں سفر کے ٹیک لگائے
لب پر اک پھول کو سجائے
مسکرا رہا ہوں
مسکرانا کیا ہے
بلبلانا کیا ہے
روتے رہنا