Showing posts with label طوبیٰ سہیل. Show all posts
Showing posts with label طوبیٰ سہیل. Show all posts

Saturday, 13 December 2025

گزاریں عمر ہم ایسی خلش میں

 گزاریں عمر ہم ایسی خلش میں

اسیرِ عشق جیسے سرزنش میں

بڑی تاثیر رکھی ہے خدا نے

ہمارے لفظ ہائے پُر کشش میں

میں جل کر راکھ ہو جاؤں گی اک دن

تمہاری بے نیازی کی تپش میں

Monday, 17 June 2024

کاش کے تم کو بتائیں ہم

 کاش


کاش کے تم کو بتائیں ہم

تجھ پہ اس طرح سے حق جتائیں ہم

بے چارگی کو اپنی

تجھ میں کھو کر تجھے دکھائیں ہم

تُو جو بول دے تو فلک کے سمت

یہ رُکی ہوئی ہوا کی سمت

Friday, 7 May 2021

تیرے حصے میں آ گئی ہوں میں

بستی بستی پہ چھا گئی ہوں میں

تیرے حصے میں آ گئی ہوں میں

یوں مِٹی ہوں تمہارے کہنے پر

جیسے دنیا گنوا گئی ہوں میں

شاعری، شوق، خواب اور جیون

دیکھ سب کچھ جلا گئی ہوں میں

Thursday, 25 February 2021

سنو مسافر سفر ابھی بہت بچا ہے

سنو مسافر


راہ میں سفر کے ٹیک لگائے

لب پر اک پھول کو سجائے

مسکرا رہا ہوں

مسکرانا کیا ہے

بلبلانا کیا ہے

روتے رہنا