Friday, 7 May 2021

تیرے حصے میں آ گئی ہوں میں

بستی بستی پہ چھا گئی ہوں میں

تیرے حصے میں آ گئی ہوں میں

یوں مِٹی ہوں تمہارے کہنے پر

جیسے دنیا گنوا گئی ہوں میں

شاعری، شوق، خواب اور جیون

دیکھ سب کچھ جلا گئی ہوں میں

بندہ پرور! تمہارے کوچے میں

اپنا سایہ مٹا گئی ہوں میں

یہ غنیمت ہے تیرے زخم سبھی

جاتے جاتے بُھلا گئی ہوں میں

یار آنکھوں سے قتل کر دینا

تیرے پہلو میں آ گئی ہوں میں

خاک زادوں کو کیا اثر طوبیٰ

خونِ دل تک پلا گئی ہوں میں


طوبیٰ سہیل

No comments:

Post a Comment