Showing posts with label طاہر عظیم. Show all posts
Showing posts with label طاہر عظیم. Show all posts

Thursday, 3 August 2023

اک ضرورت میں صرف ہو گئے تھے

 اک ضرورت میں صرف ہو گئے تھے

پھر مِرے ہاتھ برف ہو گئے تھے

لفظ کی طرح تھے کبھی ہم لوگ

اور پھر حرف حرف ہو گئے تھے

شہر کی ہر گلی کشادہ تھی

لوگ ہی تنک ظرف ہو گئے تھے

Tuesday, 23 November 2021

اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میں

 اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میں

اپنی صورت دھندلائی ہے آنکھوں میں

آج چمن کا حال نہ پوچھو ہم نفسو

آج خزاں کی رُت آئی ہے آنکھوں میں

برسوں پہلے جس دریا میں اترا تھا

اب تک اس کی گہرائی ہے آنکھوں میں

Sunday, 21 November 2021

ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہو

 ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہو

میرے لیے ذرا بھی ضروری نہیں کہ ہو

رہتا ہے ذہن و دل میں جو احساس کی طرح

اس کا کوئی پتا بھی ضروری نہیں کہ ہو

انسان سے ملو بھی تو انسان جان کر

ہر شخص دیوتا بھی ضروری نہیں کہ ہو

Saturday, 20 November 2021

محبت سے گزر جانا ہمارا

 محبت سے گزر جانا ہمارا

نہ تھا آسان مر جانا ہمارا

وہاں جب منتظر کوئی نہیں ہے

نہیں بنتا ادھر جانا ہمارا

ذرا تم وقت کی رفتار دیکھو

کہاں ممکن ٹھہر جانا ہمارا

Friday, 19 November 2021

یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میں

 یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میں

ٹوٹ جاتا ہے بارہا مجھ میں

میں تِرے ہجر کی گرفت میں ہوں

ایک صحرا ہے مبتلا مجھ میں

من مہکتا ہے کس کی خوشبو سے

کون رہتا ہے پھول سا مجھ میں

Thursday, 1 July 2021

میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتا

 میں اس کی محبت سے اک دن بھی مُکر جاتا

کچھ اور نہیں ہوتا اس دل سے اُتر جاتا

جس شام گرفتاری قسمت میں مِری آئی

اس شام کی لذت سے میں اور بکھر جاتا

خوشبو کے تعاقب نے زنجیر کیا مجھ کو

ورنہ تو یہاں سے میں چپ چاپ گُزر جاتا