اک ضرورت میں صرف ہو گئے تھے
پھر مِرے ہاتھ برف ہو گئے تھے
لفظ کی طرح تھے کبھی ہم لوگ
اور پھر حرف حرف ہو گئے تھے
شہر کی ہر گلی کشادہ تھی
لوگ ہی تنک ظرف ہو گئے تھے
اک ضرورت میں صرف ہو گئے تھے
پھر مِرے ہاتھ برف ہو گئے تھے
لفظ کی طرح تھے کبھی ہم لوگ
اور پھر حرف حرف ہو گئے تھے
شہر کی ہر گلی کشادہ تھی
لوگ ہی تنک ظرف ہو گئے تھے
اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میں
اپنی صورت دھندلائی ہے آنکھوں میں
آج چمن کا حال نہ پوچھو ہم نفسو
آج خزاں کی رُت آئی ہے آنکھوں میں
برسوں پہلے جس دریا میں اترا تھا
اب تک اس کی گہرائی ہے آنکھوں میں
ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہو
میرے لیے ذرا بھی ضروری نہیں کہ ہو
رہتا ہے ذہن و دل میں جو احساس کی طرح
اس کا کوئی پتا بھی ضروری نہیں کہ ہو
انسان سے ملو بھی تو انسان جان کر
ہر شخص دیوتا بھی ضروری نہیں کہ ہو
محبت سے گزر جانا ہمارا
نہ تھا آسان مر جانا ہمارا
وہاں جب منتظر کوئی نہیں ہے
نہیں بنتا ادھر جانا ہمارا
ذرا تم وقت کی رفتار دیکھو
کہاں ممکن ٹھہر جانا ہمارا
یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میں
ٹوٹ جاتا ہے بارہا مجھ میں
میں تِرے ہجر کی گرفت میں ہوں
ایک صحرا ہے مبتلا مجھ میں
من مہکتا ہے کس کی خوشبو سے
کون رہتا ہے پھول سا مجھ میں
میں اس کی محبت سے اک دن بھی مُکر جاتا
کچھ اور نہیں ہوتا اس دل سے اُتر جاتا
جس شام گرفتاری قسمت میں مِری آئی
اس شام کی لذت سے میں اور بکھر جاتا
خوشبو کے تعاقب نے زنجیر کیا مجھ کو
ورنہ تو یہاں سے میں چپ چاپ گُزر جاتا