Thursday, 1 July 2021

میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتا

 میں اس کی محبت سے اک دن بھی مُکر جاتا

کچھ اور نہیں ہوتا اس دل سے اُتر جاتا

جس شام گرفتاری قسمت میں مِری آئی

اس شام کی لذت سے میں اور بکھر جاتا

خوشبو کے تعاقب نے زنجیر کیا مجھ کو

ورنہ تو یہاں سے میں چپ چاپ گُزر جاتا

آواز سماعت تک پہنچی ہی نہیں شاید

وہ ورنہ تسلی کو کچھ دیر ٹھہر جاتا

ذہنوں کے مراسم تھے اک ساتھ بھی ہو جاتے

اک راہ اگر کوئی دیوار میں کر جاتا

تاثیر نہیں رہتی الفاظ کی بندش میں

میں سچ جو نہیں کہتا لہجے کا اثر جاتا

اب تیرے بچھڑنے سے یہ بات کھُلی مجھ پر

تُو جان اگر ہوتا میں جاں سے گُزر جاتا

دل ہم نے عظیم اپنا آسیب زدہ رکھا

جو خواب جنم لیتا وہ خوف سے مر جاتا


طاہر عظیم

No comments:

Post a Comment