ہر طرف سنائی دے شام کی اُداسی میں
تُو مجھے دکھائی دے شام کی اداسی میں
ہر طرف جدائی کے منظروں میں آتے ہو
اب مجھے رہائی دے شام کی اداسی میں
جسم جلنے لگتا ہے چاندنی کی ٹھنڈک سے
کاش مجھے جدائی دے شام کی اداسی میں
کیا تمہیں اذیت کے معانی نہیں آتے؟
زندگی! دہائی دے شام کی اداسی میں
سوچ کے سفینوں میں زندگی سلگتی ہے
زخم رونمائی دے شام کی اداسی میں
پھر کسی بھروسے پر چوٹ کھانی پڑ جائے
پھر کوئی صفائی دے شام کی اداسی میں
ریگزارِ شام پہ چراغوں کی تمنا میں
تُو مجھے دکھائی دے شام کی اداسی میں
دل کی بھول بھلیوں میں کیوں خوار ہوتے ہو
راہ کوئی سجھائی دے شام کی اداسی میں
بلال آنسوؤں سے اب سانس تھمنے لگتی ہے
دردِ آشنائی دے شام کی اداسی میں
بلال اسلم
No comments:
Post a Comment