راشد اس فکر میں اب آنکھ نہیں لگنے کی
میری سسّی کو ہے عادت بے خبر سونے کی
میں بڑا تنگ ہوں آنکھوں کی حساسیّت سے
یار! ان کو تو کوئی بات ملے رونے کی
سوچ دیمک ہے بدن چاٹتی رہتی ہے میاں
کوئی صورت بھی نکالا کرو خوش رہنے کی
تجھ کو درکار ہے بپھرا ہوا دریا اور میں
دشت ہوں یار! تِری پیاس نہیں بجھنے کی
راشد ملک
No comments:
Post a Comment