Showing posts with label شہزاد ڈوگر. Show all posts
Showing posts with label شہزاد ڈوگر. Show all posts

Tuesday, 2 August 2022

ذرا سی بھول بھٹک سے نیچے گرا ہے

 ذرا سی بُھول بھٹک سے نیچے گِرا ہے

یہ انسان فلک سے نیچے گرا ہے

ہر رنگ کا پہلو نمایاں ہے اس میں

ایک پُر رنگ دھنک سے نیچے گرا ہے

روشنیوں سے بہت پیار ہے اس کو مگر

طور پر پڑی ایک چمک سے نیچے گرا ہے

Saturday, 12 March 2022

خود سے باتیں کرتا ہوں ہنستا رہتا ہوں

 خود سے باتیں کرتا ہوں، ہنستا رہتا ہوں

سچ پوچھو تو پہلے سے اچھا رہتا ہوں

اک شخص کہ جس کو مرشد مانا ہے میں نے

وہ جیسا کر جاتا ہے،۔ ویسا رہتا ہوں

لوگوں نے بس دھڑکن کی آواز سنی ہے

سو اب یہ سب کہتے ہیں؛ زندہ رہتا ہوں

Sunday, 6 March 2022

اپنے ہاتھ سے اپنی تقدیر بنا

 اپنے ہاتھ سے اپنی تقدیر بنا

تو عشق جیت جائے ایسی تدبیر بنا

میں رانجھا ڈھونڈ کے لاتا ہوں کہیں سے

تُو کسی کاغذ پہ کوئی ہیر بنا

پھر مانوں میں تیری کاریگری مصور

میرے ہنستے ہوئے یار کی تصویر بنا

Saturday, 5 March 2022

ہو جائے جسے بھی شناسائی ترے در کی

 ہو جائے جسے بھی شناسائی تِرے در کی

کرتا ہےعمر بھر وہ گدائی ترے در کی

اب تو میں کسی طور بھٹک ہی نہیں سکتا

کافی ہے مجھے راہنمائی ترے در کی

ہاں خواب میں دیدار عطا ہو گیا جس کو

پھر چومنے اس کو صبا آئی ترے در کی

Friday, 4 March 2022

اے دودھ کے دھلے لوگو نفرتوں میں پلے

یومِ محبت


اے دودھ کے دھلے لوگو

نفرتوں میں پلے بڑھے لوگو

مسجدوں کے منبروں کی زینت بنے پارساؤ

چرچ میں عبادت گزار پادریو

مندروں کی حفاظت پہ معمور برہمنو