ذرا سی بُھول بھٹک سے نیچے گِرا ہے
یہ انسان فلک سے نیچے گرا ہے
ہر رنگ کا پہلو نمایاں ہے اس میں
ایک پُر رنگ دھنک سے نیچے گرا ہے
روشنیوں سے بہت پیار ہے اس کو مگر
طور پر پڑی ایک چمک سے نیچے گرا ہے
ذرا سی بُھول بھٹک سے نیچے گِرا ہے
یہ انسان فلک سے نیچے گرا ہے
ہر رنگ کا پہلو نمایاں ہے اس میں
ایک پُر رنگ دھنک سے نیچے گرا ہے
روشنیوں سے بہت پیار ہے اس کو مگر
طور پر پڑی ایک چمک سے نیچے گرا ہے
خود سے باتیں کرتا ہوں، ہنستا رہتا ہوں
سچ پوچھو تو پہلے سے اچھا رہتا ہوں
اک شخص کہ جس کو مرشد مانا ہے میں نے
وہ جیسا کر جاتا ہے،۔ ویسا رہتا ہوں
لوگوں نے بس دھڑکن کی آواز سنی ہے
سو اب یہ سب کہتے ہیں؛ زندہ رہتا ہوں
اپنے ہاتھ سے اپنی تقدیر بنا
تو عشق جیت جائے ایسی تدبیر بنا
میں رانجھا ڈھونڈ کے لاتا ہوں کہیں سے
تُو کسی کاغذ پہ کوئی ہیر بنا
پھر مانوں میں تیری کاریگری مصور
میرے ہنستے ہوئے یار کی تصویر بنا
ہو جائے جسے بھی شناسائی تِرے در کی
کرتا ہےعمر بھر وہ گدائی ترے در کی
اب تو میں کسی طور بھٹک ہی نہیں سکتا
کافی ہے مجھے راہنمائی ترے در کی
ہاں خواب میں دیدار عطا ہو گیا جس کو
پھر چومنے اس کو صبا آئی ترے در کی
یومِ محبت
اے دودھ کے دھلے لوگو
نفرتوں میں پلے بڑھے لوگو
مسجدوں کے منبروں کی زینت بنے پارساؤ
چرچ میں عبادت گزار پادریو
مندروں کی حفاظت پہ معمور برہمنو