Saturday, 12 March 2022

خود سے باتیں کرتا ہوں ہنستا رہتا ہوں

 خود سے باتیں کرتا ہوں، ہنستا رہتا ہوں

سچ پوچھو تو پہلے سے اچھا رہتا ہوں

اک شخص کہ جس کو مرشد مانا ہے میں نے

وہ جیسا کر جاتا ہے،۔ ویسا رہتا ہوں

لوگوں نے بس دھڑکن کی آواز سنی ہے

سو اب یہ سب کہتے ہیں؛ زندہ رہتا ہوں

اب بھی اس کے خط میری الماری میں ہیں 

اب بھی میں ان کی عزت کرتا رہتا ہوں

اس کے ہاتھوں میں پنسل ہے اور ریزر ہے 

اب میں بنتا رہتا ہوں،۔ مٹتا رہتا ہوں


شہزاد ڈوگر

No comments:

Post a Comment