رنج و الم اور آہ و فغاں سب جاری ہیں مجھ میں
آگ پکڑنے والی چیزیں ساری ہیں مجھ میں
مجھ سے میری ہر خواہش سب حرص و ہوس لے جاؤ
بیچ رہا ہوں جو چیزیں بازاری ہیں مجھ میں
میں خود بھی اکثر ان سے زخمی ہو جاتا ہوں
وہ باتیں جو باعثِ دِل آزاری ہیں مجھ میں
مجھ سے بچھڑ کر اس نے کوئی خواب نہیں دیکھا
پھر سب راتیں میرے بعد گزاری ہیں مجھ میں
جسم اور جاں میں ایک کھرا دل تھا سو ٹوٹ گیا
سوچ رہا ہوں کیا چیزیں معیاری ہیں مجھ میں
صفدر صدیق رضی
No comments:
Post a Comment