موت سے یونہی سدا پیار کیا ہے میں نے
سجدۂ شکر سرِ دار کیا ہے میں نے
عہدِ افرنگ میں جذبۂ بیدار کے ساتھ
گنگ لمحوں کو بھی احرار کیا ہے میں نے
دین کی صف میں گھُسے تھے جو لٹیرے کب سے
ان کو رُسوا سرِ بازار کیا ہے میں نے
موت سے یونہی سدا پیار کیا ہے میں نے
سجدۂ شکر سرِ دار کیا ہے میں نے
عہدِ افرنگ میں جذبۂ بیدار کے ساتھ
گنگ لمحوں کو بھی احرار کیا ہے میں نے
دین کی صف میں گھُسے تھے جو لٹیرے کب سے
ان کو رُسوا سرِ بازار کیا ہے میں نے
زندہ دلانِ وادئ کشمیر زندہ باد
اے ترجمانِ غیرتِ شبیر زندہ باد
تیری شجاعتوں کے ترانے فضاؤں میں
عشق و جنوں کی بولتی تصویر زندہ باد
ظلم و ستم کے سامنے سینہ سِپر ہے تُو
ہے لب پہ تیرے نعرۂ تکبیر زندہ باد
سلام بر شہدائے تحریک ختم نبوتﷺ
سن تریپن کے شہیدو تم پہ ہو رحمت مدام
دینِ احمدﷺ کو دیا تم نے خون ذوالکرام
کٹ مَرے جو بس رضائے مصطفیٰؐ کے واسطے
ان شہیدوں پہ ہو رحمت، ان پہ ہوں لاکھوں سلام
گنبدِ خضریٰ تمہارے عشق کا ہے معترف
کارگاہِ شوق میں گونجا تمہارا نیک نام
الزام ہو کے رہ گئی حرفِ وفا کی بات
خواب و خیال ہو گئی لطف و عطا کی بات
محور بنی ہوئی ہے میرے ذوق و شوق کا
ہاں رسمِ عاشقی میں تیرے نقشِ پا کی بات
ہوش و خرد سے رابطے سب میرے کٹ گئے
جب سے پڑی ہے کان میں اس خوشنوا کی بات
جذبۂ عشق نے سینے میں مچلنا سیکھا
آپؐ آئے تو زمانے نے سنبھلنا سیکھا
گُنگ لمحوں کو ہوئی قوتِ اظہار عطا
دامنِ خیر میں حق بات نے پلنا سیکھا
کفر اور شرک کے سب بُت ہوئے ریزہ ریزہ
حق کے انوار میں ظلمات نے ڈھلنا سیکھا
دل کہتا ہے مجھ سے خدا دیکھ رہا ہے
سوچوں میں اتر جاتا ہوں، کیا دیکھ رہا ہے
ہر سمت نظر آتی ہے اک قوسِ قزح سی
اک تُو ہے کہ بس رنگِ حنا دیکھ رہا ہے
رکھا ہے جو سر میں نے کبھی در پہ تمہارے
دل بولا؛ کوئی رنگِ رِیا دیکھ رہا ہے