Tuesday, 16 August 2022

جذبۂ عشق نے سینے میں مچلنا سیکھا

 جذبۂ عشق نے سینے میں مچلنا سیکھا

آپؐ آئے تو زمانے نے سنبھلنا سیکھا

گُنگ لمحوں کو ہوئی قوتِ اظہار عطا

دامنِ خیر میں حق بات نے پلنا سیکھا

کفر اور شرک کے سب بُت ہوئے ریزہ ریزہ

حق کے انوار میں ظلمات نے ڈھلنا سیکھا

پہنا انسان نے اس وقت لباسِ عظمت

سایۂ خیر میں جب صِدق نے پلنا سیکھا

پائی بھٹکے ہوئے انساں نے یقین کی منزل

نورِ قرآن نے سینوں میں اُترنا سیکھا

ہوئی سیراب زمانے کی یہ ویراں دھرتی

چشمۂ حق نے مدینے سے ابلنا سیکھا

ملی بے راہ زمانے کو قیادت ان کی

راہِ تہذیب پہ انسان نے چلنا سیکھا

آپؐ کے دم سے سہارے ملے بے کس دل کو

نئے انداز سے دنیا نے سنبھلنا سیکھا

ظلمتِ دَہر نے پھر دِیں کے اُجالے دیکھے

شمعِ توحید نے جب طیبہ میں جلنا سیکھا

دے گئے دَیر کو وہ درسِ اخوت خالد

پیار کے رنگ میں نفرت نے بھی ڈھلنا سیکھا


خالد شبیر احمد

No comments:

Post a Comment