Showing posts with label طالب چکوالی. Show all posts
Showing posts with label طالب چکوالی. Show all posts

Saturday, 27 May 2023

بے کیف مسرت بھی مصیبت سی لگے ہے

 بے کیف مسرت بھی مصیبت سی لگے ہے

اے دوست مجھے غم کی ضرورت سی لگے ہے

روداد محبت کی کسی کو نہ سناؤ

کچھ لوگ ہیں جن کو یہ شکایت سی لگے ہے

دم توڑتی قدروں کو بچانے کی اچھل کود

فطرت کے اصولوں سے بغاوت سی لگے ہے

Wednesday, 10 May 2023

بیزار زندگی سے دل مضمحل نہیں

 بیزار زندگی سے دل مضمحل نہیں

شاید بقدرِ ظرف ابھی درد دل نہیں

اپنا تو اس نے ساتھ نبھایا ہے عمر بھر

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ غم مستقل نہیں

دیوانۂ مفاد ہے بے گانۂ خلوص

وہ اہلِ عقل و ہوش سہی اہلِ دل نہیں

Thursday, 4 May 2023

خزاں برنگ بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو

 خزاں برنگ بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو

سکوں کے بھیس میں طوفاں ہے دیکھیے کیا ہو

الٰہی! خیر ہو حالات ہی دگرگوں ہیں

کبھی جو کفر تھا ایماں ہے دیکھیے کیا ہو

رواں دواں تھے جو لمحات رک گئے یکدم

سکوت شام غریباں ہے دیکھیے کیا ہو

Tuesday, 21 February 2023

میرا آئینہ مری شکل دکھاتا ہے مجھے

میرا آئینہ مِری شکل دکھاتا ہے مجھے

یہ وہ اپنا ہے جو بیگانہ بتاتا ہے مجھے

میرے احساس دوئی کو یہ ہوا دیتا ہے

میری ہستی کا یہ احساس کراتا ہے مجھے

کرب احساس کراتا ہے خودی کے درشن

زعم ہستی کے جھروکے میں سجاتا ہے مجھے

Saturday, 6 November 2021

خواب اور حقیقت کی تصویر نظر آئی

خواب اور حقیقت کی تصویر نظر آئی

تدبیر عناں گیر تقدیر نظر آئی

آفات مسلسل میں اک ربط نظر آیا

حالات دگرگوں میں زنجیر نظر آئی

جو اپنے نقائص تھے وہ حسن نظر آئے

اوروں میں جو خوبی تھی تقصیر نظر آئی