بے کیف مسرت بھی مصیبت سی لگے ہے
اے دوست مجھے غم کی ضرورت سی لگے ہے
روداد محبت کی کسی کو نہ سناؤ
کچھ لوگ ہیں جن کو یہ شکایت سی لگے ہے
دم توڑتی قدروں کو بچانے کی اچھل کود
فطرت کے اصولوں سے بغاوت سی لگے ہے
بے کیف مسرت بھی مصیبت سی لگے ہے
اے دوست مجھے غم کی ضرورت سی لگے ہے
روداد محبت کی کسی کو نہ سناؤ
کچھ لوگ ہیں جن کو یہ شکایت سی لگے ہے
دم توڑتی قدروں کو بچانے کی اچھل کود
فطرت کے اصولوں سے بغاوت سی لگے ہے
بیزار زندگی سے دل مضمحل نہیں
شاید بقدرِ ظرف ابھی درد دل نہیں
اپنا تو اس نے ساتھ نبھایا ہے عمر بھر
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ غم مستقل نہیں
دیوانۂ مفاد ہے بے گانۂ خلوص
وہ اہلِ عقل و ہوش سہی اہلِ دل نہیں
خزاں برنگ بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو
سکوں کے بھیس میں طوفاں ہے دیکھیے کیا ہو
الٰہی! خیر ہو حالات ہی دگرگوں ہیں
کبھی جو کفر تھا ایماں ہے دیکھیے کیا ہو
رواں دواں تھے جو لمحات رک گئے یکدم
سکوت شام غریباں ہے دیکھیے کیا ہو
میرا آئینہ مِری شکل دکھاتا ہے مجھے
یہ وہ اپنا ہے جو بیگانہ بتاتا ہے مجھے
میرے احساس دوئی کو یہ ہوا دیتا ہے
میری ہستی کا یہ احساس کراتا ہے مجھے
کرب احساس کراتا ہے خودی کے درشن
زعم ہستی کے جھروکے میں سجاتا ہے مجھے
خواب اور حقیقت کی تصویر نظر آئی
تدبیر عناں گیر تقدیر نظر آئی
آفات مسلسل میں اک ربط نظر آیا
حالات دگرگوں میں زنجیر نظر آئی
جو اپنے نقائص تھے وہ حسن نظر آئے
اوروں میں جو خوبی تھی تقصیر نظر آئی