Showing posts with label حماد باقر. Show all posts
Showing posts with label حماد باقر. Show all posts

Friday, 12 June 2026

کیوں یار چاہتا ہے بتا میرے یار اور

 کیوں یار چاہتا ہے بتا میرے یار اور؟

مجھ سا نہیں ملے گا تجھے غمگسار اور

جس کی طلب تھی مجھ کو وہی تو نہیں ملا

ویسے تو زندگی میں ملے بے شُمار اور

ممکن نہیں ہے زندہ رہوں اب کی بار میں

دشمن کا وار اور ہے، یاروں کا وار اور

Sunday, 11 August 2024

محبت تو عبادت ہے

 محبت


محبت تو عبادت ہے

سمجھ پاؤں تو راحت ہے

نہ سمجھوں تو اذیت ہے

یہاں ڈرنا تو بدعت ہے 

سبھی کی اس میں شرکت ہے

نگاہوں  کی تجارت ہے

Wednesday, 7 August 2024

تم سے بچھڑ کے زندگی دیکھی زوال میں

 ‎تم سے بچھڑ کے زندگی دیکھی زوال میں 

‎ہر لمحہ  ڈھل رہا ہے مِرا سال سال میں 

‎پھر ہونٹ سوکھنے لگے میرے جواب کے

‎صحرا کی تشنگی تھی تمہارے سوال میں

‎آنچل کی ٹھنڈی چھاؤں بہت یاد آئی ماں

‎آیا تھا گھر کو چھوڑ کے جب اشتعال میں

Monday, 5 August 2024

تقدیر بدل جاتی تھی پھر ماں کی دعا سے

 ‎دیتی تھی پریشانی میں وہ کتنے دِلاسے

‎تقدیر بدل جاتی تھی پھر ماں کی دُعا سے

‎کوشش سے تو مِلنا تِرا ممکن نہیں لگتا 

‎اب روز تجھے مانگ کے دیکھیں گے خدا سے

‎اس نے تو بُجھا دینے ہیں جلتے ہوئے دِیپک

‎شکوہ ہی نہیں مجھ کو کسی طور ہوا سے