کیوں یار چاہتا ہے بتا میرے یار اور؟
مجھ سا نہیں ملے گا تجھے غمگسار اور
جس کی طلب تھی مجھ کو وہی تو نہیں ملا
ویسے تو زندگی میں ملے بے شُمار اور
ممکن نہیں ہے زندہ رہوں اب کی بار میں
دشمن کا وار اور ہے، یاروں کا وار اور
کیوں یار چاہتا ہے بتا میرے یار اور؟
مجھ سا نہیں ملے گا تجھے غمگسار اور
جس کی طلب تھی مجھ کو وہی تو نہیں ملا
ویسے تو زندگی میں ملے بے شُمار اور
ممکن نہیں ہے زندہ رہوں اب کی بار میں
دشمن کا وار اور ہے، یاروں کا وار اور
محبت
محبت تو عبادت ہے
سمجھ پاؤں تو راحت ہے
نہ سمجھوں تو اذیت ہے
یہاں ڈرنا تو بدعت ہے
سبھی کی اس میں شرکت ہے
نگاہوں کی تجارت ہے
تم سے بچھڑ کے زندگی دیکھی زوال میں
ہر لمحہ ڈھل رہا ہے مِرا سال سال میں
پھر ہونٹ سوکھنے لگے میرے جواب کے
صحرا کی تشنگی تھی تمہارے سوال میں
آنچل کی ٹھنڈی چھاؤں بہت یاد آئی ماں
آیا تھا گھر کو چھوڑ کے جب اشتعال میں
دیتی تھی پریشانی میں وہ کتنے دِلاسے
تقدیر بدل جاتی تھی پھر ماں کی دُعا سے
کوشش سے تو مِلنا تِرا ممکن نہیں لگتا
اب روز تجھے مانگ کے دیکھیں گے خدا سے
اس نے تو بُجھا دینے ہیں جلتے ہوئے دِیپک
شکوہ ہی نہیں مجھ کو کسی طور ہوا سے