ڈھونڈتے ہو جسے دفینوں میں
وہی وحشی ہے سب کے سینوں میں
میرے قابیل کی روایت ہیں
پُرزے جتنے بھی ہیں مشینوں میں
صبحدم پھر سے بانٹ دی کس نے
تیرگی شہر کے مکینوں میں
ڈھونڈتے ہو جسے دفینوں میں
وہی وحشی ہے سب کے سینوں میں
میرے قابیل کی روایت ہیں
پُرزے جتنے بھی ہیں مشینوں میں
صبحدم پھر سے بانٹ دی کس نے
تیرگی شہر کے مکینوں میں
اشک جب دیدۂ تر سے نکلا
ایک کانٹا سا جگر سے نکلا
پھر نہ میں رات گئے تک لوٹا
ڈوبتی شام جو گھر سے نکلا
ایک میت کی طرح لگتا تھا
چاند جب قید سحر سے نکلا