Showing posts with label اختر امام رضوی. Show all posts
Showing posts with label اختر امام رضوی. Show all posts

Tuesday, 7 November 2023

ڈھونڈتے ہو جسے دفینوں میں

 ڈھونڈتے ہو جسے دفینوں میں

وہی وحشی ہے سب کے سینوں میں

میرے قابیل کی روایت ہیں

پُرزے جتنے بھی ہیں مشینوں میں

صبحدم پھر سے بانٹ دی کس نے

تیرگی شہر کے مکینوں میں

Monday, 17 January 2022

اشک جب دیدۂ تر سے نکلا

 اشک جب دیدۂ تر سے نکلا

ایک کانٹا سا جگر سے نکلا

پھر نہ میں رات گئے تک لوٹا

ڈوبتی شام جو گھر سے نکلا

ایک میت کی طرح لگتا تھا

چاند جب قید سحر سے نکلا

Thursday, 27 October 2016

مجھ سے نفرت کی عجب راہ نکالی اس نے

مجھ سے نفرت کی عجب راہ نکالی اس نے
میرے دشمن سے بہت دوستی پالی اس نے
وہ میرے در کی روایت سے بہت واقف تھا
میرا سر مانگ لیا بن کے سوالی اس نے
میری میت سے اسے آۓ گی اپنی خوشبو 
بس یہی سوچ کے مٹی نہیں ڈالی اس نے

اسی لئے نہیں مانوس کائنات سے میں

اسی لیے نہیں مانوس کائنات سے میں
ہر ایک لمحہ بچھڑتا ہوں اپنی ذات سے میں
مِرے غروب کا ماتم نہ کر میں زندہ ہوں 
کہ مجھ سے رات پِنپتی ہے اور رات سے میں
ابھی تو سانس کے زِنداں سے آ رہی ہے صدا 
تھکا نہیں ہوں ابھی شرحِ حادثات سے میں

رات بھی اب نڈھال ہے بابا

رات بھی اب نڈھال ہے بابا
روشنی کا سوال ہے بابا
کچھ نہيں خدوخال کی صورت
سب تمنا کا جال ہے بابا
يہ سمندر تو سوکھ جاتے ہيں
تشنگی لازوال ہے بابا

Tuesday, 8 December 2015

اپنا دکھ اپنا ہے پیارے غیر کو کیوں الجھاؤ گے

اپنا دکھ اپنا ہے پیارے غیر کو کیوں الجھاؤ گے
اپنے دکھ میں پاگل ہو کر اب کس کو سمجھاؤ گے
درد کے صحرا میں لاکھوں امید کے لاشے گلتے ہیں
ایک ذرا سے دامن میں تم کس کس کو کفناؤ گے
توڑ بھی دو احساس کے رشتے چھوڑ بھی دو دکھ اپنانے
رو رو کے جیون کاٹو گے، رو رو کے مر جاؤ گے

جرم ہستی کی سزا کیوں نہیں دیتے مجھ کو

جرمِ ہستی کی سزا کیوں نہیں دیتے مجھ کو
لوگ جینے کی دعا کیوں نہیں دیتے مجھ کو
صرصرِ خوں کے تصور سے لرزتے کیوں ہو
خاکِ صحرا ہوں، اڑا کیوں نہیں دیتے مجھ کو 
کیوں تکلف ہے مِرے نام پہ تعزیروں کا
میں برا ہوں تو بھُلا کیوں نہیں دیتے مجھ کو

ہر بت یہاں ٹوٹے ہوئے پتھر کی طرح ہے

ہر بت یہاں ٹوٹے ہوئے پتھر کی طرح ہے
یہ شہر تو اجڑے ہوئے منظر کی طرح ہے
میں تشنۂ دیدار کہ جھونکا ہوں ہوا کا
وہ جھیل میں اترے ہوئے منظر کی طرح ہے
کم ظرف زمانے کی حقارت کا گِلہ کیا
میں خوش ہوں، مِرا پیار سمندر کی طرح ہے

Monday, 7 December 2015

جیتے جی دکھ سکھ کے لمحے آتے جاتے رہتے ہیں

جیتے جی دکھ سکھ کے لمحے آتے جاتے رہتے ہیں
ہم تو ذرا سی بات پہ پہروں اشک بہاتے رہتے ہیں
وہ اپنے ماتھے پر جھوٹے روگ سجا کر پھرتے ہیں
ہم اپنی آنکھوں کے جلتے زخم چھپاتے رہتے ہیں
سوچ سے پیکر کیسے ترشے، سوچ کا انت نرالا ہے
خاک پہ بیٹھے آڑے تِرچھے نقش بناتے رہتے ہیں

دنیا بھی پیش آئی بہت بے رخی کے ساتھ

دنیا بھی پیش آئی بہت بے رخی کے ساتھ
ہم نے بھی زخم کھائے بڑی سادگی کے ساتھ
اک مشتِ خاک، آگ کا دریا، لہو کی لہر
کیا کیا روائتیں ہیں یہاں آدمی کے ساتھ
اپنوں کی چاہتوں نے بھی کیا کیا دیئے فریب
روتے رہے لپٹ کہ ہر اک اجنبی کے ساتھ

دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے

دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے
اور پھر لہر نہ دیکھے، کفِ دریا دیکھے
میں ہر اک حال میں تھا گردشِ دوراں کا امیں
جس نے دنیا نہیں دیکھی، مِرا چہرا دیکھے
اب بھی آتی ہے تِری یاد، پہ اس کرب کے ساتھ
ٹوٹتی نیند میں جیسے کوئی سپنا دیکھے

Sunday, 6 December 2015

جو سنگ ہو کے ملائم ہے سادگی کی طرح

جو سنگ ہو کے ملائم ہے سادگی کی طرح
پگھل رہا ہے مِرے دل میں چاندنی کی طرح
مجھے پکارو تو دیوار ہوں، سنو تو صدا
میں گونجتا ہوں فضاؤں میں خامشی کی طرح
میں اس کو نور کا پیکر کہوں کہ جانِ خیال
جو میرے دل پہ اترتا ہے شاعری کی طرح

چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو

چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو
اپنے سینے پر سنبھالا میں نے بوجھل رات کو
رات بھر چھایا رہا گھر کی فضا پر اک ہراس
دستکیں دیتا تھا در پر کوئی پاگل رات کو
چاندنی میں گھُل گیا جب دل کی مایوسی کا زہر
میں نے خود کفنا دیا سایوں میں کومل رات کو

اشک جب دیدہ تر سے نکلا

اشک جب دیدۂ تر سے نکلا
ایک کانٹا سا جگر سے نکلا
پھر نہ میں رات گئے تک لوٹا
ڈوبتی شام جو گھر سے نکلا
ایک میت کی طرح لگتا تھا
چاند جب قیدِ سحر سے نکلا

وہ خود تو مر ہی گیا تھا مجھے بھی مار گیا

وہ خود تو مر ہی گیا تھا مجھے بھی مار گیا
وہ اپنے روگ مِری روح میں اتار گیا
سمندروں کی یہ شورش اسی کا ماتم ہے
جو خود تو ڈوب گیا، موج کو ابھار گیا
ہوا کی زخم کھلے تھے اداس چہرے پر
خزاں کے شہر سے کوئی تو پُر بہار گیا

Sunday, 29 December 2013

وہ میرے سامنے منظر اچھال دیتا ہے

 وہ میرے سامنے منظر اچھال دیتا ہے
 نظر اٹھاؤں، تو آنکھیں نکال دیتا ہے
 سرشت اسکی خنک چاندنی سہی، لیکن
 وہ چاند، سارا سمندر ابال دیتا ہے
 وہ میری آخری ہچکی کا منتظر ہے بہت
 میرا سِسکنا اسے اشتعال دیتا ہے