دنیا بھی پیش آئی بہت بے رخی کے ساتھ
ہم نے بھی زخم کھائے بڑی سادگی کے ساتھ
اک مشتِ خاک، آگ کا دریا، لہو کی لہر
کیا کیا روائتیں ہیں یہاں آدمی کے ساتھ
اپنوں کی چاہتوں نے بھی کیا کیا دیئے فریب
جنگل کی دھوپ چھاؤں ہی جنگل کا حسن ہے
سایوں کو بھی قبول کرو روشنی کے ساتھ
تم راستے کی گرد نہ ہو جاؤ تو کہوں
دو چار گام چل کے تو دیکھو کسی کے ساتھ
کوئی دھواں اٹھا نہ کوئی روشنی ہوئی
جلتی رہی حیات بڑی خامشی کے ساتھ
اختر امام رضوی
No comments:
Post a Comment