دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے
اور پھر لہر نہ دیکھے، کفِ دریا دیکھے
میں ہر اک حال میں تھا گردشِ دوراں کا امیں
جس نے دنیا نہیں دیکھی، مِرا چہرا دیکھے
اب بھی آتی ہے تِری یاد، پہ اس کرب کے ساتھ
رنگ کی آنچ میں جلتا ہوا خوشبو کا بدن
آنکھ اس پھول کی تصویر میں کیا کیا دیکھے
کوئی چوٹی نہیں اب تو مِرے قد سے آگے
یہ زمانہ تو ابھی اور بھی اونچا دیکھے
پھر وہی دھند میں لپٹا ہوا پیکر ہو گا
کون بے کار میں اٹھتا ہوا پردا دیکھے
ایک احساسِ ندامت سے لرز اٹھتا ہوں
جب رمِ موج مِری وسعتِ صحرا دیکھے
اختر امام رضوی
No comments:
Post a Comment